’ تحریک انصاف سولو فلائٹ نہیں کرسکے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption باڈی لینگویج سےایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جو حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے اُمیدیں لگا کر آئے تھے وہ پوری ہوتی ہی نظر نہیں آتیں

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے شاید یہ نہیں سوچا تھا کہ حزب مخالف کی دیگر جماعتیں پاناما لیکس پر وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کریں گی اور وہ اس مطالبے کو دوبارہ نہیں دھرا سکیں گے جو ان جماعتوں کی قیادت عوامی اجتماعات میں کرتی رہی ہے۔

پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے ضابطہ کار طے کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان بڑی خوشی خوشی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کے گھر پر پہنچے۔

ان جماعتوں اور بالخصوص پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کو یقین تھا کہ اس اجلاس میں شریک ہونے والی دیگر سات جماعتیں نہ صرف اُن کے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے کی حمایت کریں گی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ اس معاملے پر سڑکوں پر آنے کا بھی فیصلہ کریں گی جس کے بعد وزیر اعظم پر سیاسی اور عوامی دباؤ مذید بڑھے گا اور میاں نواز شریف کے پاس مستعفی ہونے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

چار گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں شریک اگرچہ تمام سیاسی جماعتوں نے پانامالیکس سے متعلق ٹی او آرز پیش کیے لیکن متفقہ طور پر ضابطہ کار تشکیل نہ دیے جاسکے۔

اجلاس میں شریک متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما میاں عتیق دو تین بار اجلاس سے اُٹھ کر باہرآئے جنہیں دیکھتے ہی میڈیا کے لوگ اُن کے پیچھے دوڑ لگا دیتے تاہم وہ چند صحافیوں کے ساتھ اس بارے میں آف دی ریکارڈ گفتگو بھی کرتے رہے۔

Image caption میڈیا ٹاک کے دوران شاہ محمود قریشی سے میڈیا کے ارکان نے سوال کرنے کی کوشش کی جس کا شاہ محمود قریشی نے جواب نہیں دیا

اجلاس ختم ہونے کے بعد قمر زمان جب میڈیا کے نمائندوں سے بات کرنے کے لیے آئے تو پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید قمر زمان کائرہ کے دائیں اور بائیں موجود تھے اور اُن کی باڈی لینگویج سےایسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ جو حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے اُمیدیں لگا کر آئے تھے وہ پوری ہوتی ہی نظر نہیں آتیں۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کی بات تک نہیں کی گئی اور صرف اس بات پر ہی اکتفا کیا گیا کہ ’پاناما لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کا نام آنے کے بعد میاں نواز شریف نے اپنی اخلاقی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔‘

میڈیا ٹاک کے دوران شاہ محمود قریشی سے میڈیا کے ارکان نے سوال کرنے کی کوشش کی جس کا شاہ محمود قریشی نے جواب نہیں دیا بلکہ قمر زمان کائرہ کو بھی بات جلد از جلد ختم کرنے کا بھی کہہ دیا۔

پانامالیکس کا معاملہ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اُٹھایا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شو پاکستان پیپلز پارٹی سے چرا لیا ہے اور اب پاکستان تحریک انصاف اکیلے اس معاملے پر سولو فلائٹ نہیں کرسکے گی۔

سیاسی تجزیہ کار تنویر احمد کہتے ہیں کہ حزب مخالف کی جماعتیں اور بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرگئی تو سنہ 2018میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمراں جماعت کو شکست دینا بہت مشکل ہو جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ عام تاثر یہی ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے کو پاکستان تحریک انصاف کو اُنھی قوتوں نے متحرک کیا ہے جنہوں نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں پارلیمنمٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کے احکامات دیے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ پانامالیکس کے معاملے پر حزب مخالف کی جماعتوں کا منقسم ہونا حکومت کے مفاد میں ہے۔

اسی بارے میں