حزبِ اختلاف وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے سے ’دستبردار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیف جسٹس انور ظہیر جمالی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کا جائزہ لے رہے ہیں

پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے سے بظاہر دستبردار ہوگئی ہیں۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے منظر عام آنے کے بعد وزیر اعظم اپنی ’اخلاقی ذمہ داریاں‘ ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

سوموار کو اسلام آباد میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کا اجلاس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کے گھر پر ہوا۔

٭’مشترکہ ضابطہ کار نہ بنا تو احتجاج ہوگا‘

٭’الزام ثابت ہوا تو وقت ضائع کیے بغیر گھر چلا جاؤں گا‘

اس سے پہلے حزب مخالف کی جماعتیں جن میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل ہیں، نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

حزب مخالف کی جماعتوں کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’پاناما لیکس کے بارے میں ضابطہ طے کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان اتقاق رائے نہ ہوسکا جس کے بعد ان جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس منگل کو دوبارہ ہوگا جس میں ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔‘

میڈیا کے نمائندوں کی طرف سے جب یہ پوچھا گیا کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے وزیر اعظم سے براہ راست مستعفی ہونے کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جس پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ’جب یہ کہا گیا کہ وز یر اعظم اپنی اخلاقی ذمہ داریوں پوری نہیں کر سکے تو اس معاملے کو میڈیا کے لوگ جیسے چاہیں اپنے الفاظ دے لیں۔‘

اجلاس میں شریک ایک رہنما بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ پاکستان تحریک انصاف اور قومی اسمبلی میں ایک نشست رکھنے والی جماعت عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی طرف سے کیا گیا جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس کی حمایت کی تاہم اجلاس میں موجود اکثریتی جماعتوں نے اس مطالبے کو مسترد کردیا۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طرف سے بھی اس مطالبے کی حمایت نہیں کی گئی تھی۔

جن جماعتوں نے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے کی مخالفت کی ان میں متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ عوامی نینشل پارٹی اور قومی وطن پارٹی بھی شامل تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ٹی او آرز پیش کیے تھے اس کی دوسری شق میں ہی یہ لکھا گیا تھا کہ میاں نواز شریف کو اس وقت تک اپنے عہدے سے الگ ہوجانا چاہیے جب تک پاناما لیکس کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا حزب مخالف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کی مشاورت سے قانون سازی کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے

اس سے پہلے متفقہ طور پر یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ حزبِ مخالف کی جماعتوں کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مجوزہ عدالتی کمیشن بھی اسی طرح با اختیار ہو جس طرح الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا گیا تھا۔

اجلاس میں فاٹا کے اراکین موجود نہیں تھے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اس بات پر متفق ہیں کہ چونکہ پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے بارے میں نواز شریف کے خاندان کا نام آیا ہے، اس لیے پہلے مرحلے میں صرف وزیر اعظم کے خاندان کی تحقیقات کی جائیں جبکہ اس فہرست میں شامل دیگر افراد کے خلاف تحقیقات دوسرے مرحلے میں شروع کی جائیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے بارے میں حکومت کی طرف سے لکھے گئے خط کا جائزہ لے رہے ہیں جس کے بعد اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

اپوزیشن کے اجلاس میں شریک ہونے والی جماعتوں میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کے علاوہ دوسری جماعتوں بشمول جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا موقف ہے کہ اس فہرست میں شامل باقی ڈھائی سو افراد کے خلاف بھی تحقیقات ایک ہی وقت میں شروع کی جائیں۔

اسی بارے میں