رینجرز کے زیرِ حراست، ایم کیو ایم کا کارکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر آفتاب احمد دورانِ حراست انتقال کر گئے ہیں۔ انھیں رینجرز نے 90 روز کے لیے حراست میں لیا تھا۔

ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ آفتاب احمد کی ہلاکت رینجرز کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ہوئی جبکہ رینجرز نے کہا ہے کہ انھیں منگل کی صبح سینے میں تکلیف کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں حرکتِ قلب بند ہونے سے وہ چل بسے۔

٭ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر 90 دن کے لیے حراست میں

شعبۂ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق آفتاب کو صبح سات بجے کے قریب ہپستال لایا گیا تھا، ان کا بلڈ پریشر انتہائی کم تھا، جس کے بعد وہ تقریباً آدھا گھنٹہ زیر علاج رہے اور بعد میں فوت ہو گئے۔

ڈاکٹر سیمی نے آفتاب کی موت کی وجہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا جب تک پوسٹ مارٹم نہیں ہو جاتا، وہ کچھ نہیں بتا سکیں گی۔

آفتاب احمد کی لاش مردہ خانہ پہنچا دی گئی ہے، جہاں مجسٹریٹ کی موجودگی میں پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

رینجرز نے گذشتہ روز آفتاب احمد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کے پاس پیش کر کے 90 روز کا ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ رینجرز کے لا افسر کا دعویٰ تھا کہ آفتاب احمد پر ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ دوران حراست منگل کو علی الصبح سینے میں تکلیف شکایت پر ملزم آفتاب کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں حرکت قلب بند ہوجانےکی وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا۔

ترجمان کے مطابق ملزم آفتاب احمد کو مختلف جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے رینجرز نے یکم مئی کو گرفتار کیا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی کنور نوید کا کہنا ہے کہ آفتاب احمد کی ہلاکت رینجرز کے مبینہ تشدد سے ہی ہوئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص جس کی والدہ حیات ہے، جس کے بھائی بہن اور بیوہ موجود ہے اس کی لاش ایدھی سینٹر منتقل کی گئی جہاں لاوارث لوگوں کی میتیں پہنچائی جاتی ہیں۔‘

کنور نوید کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس سے قبل بھی ایم کیو ایم برنس روڈ کے یونٹ انچارج کو گرفتار کیا اور جب وہ قریب المرگ ہوگئے تو انھیں سول ہپستال میں چھوڑ گئے، اسی طرح ایک دوسرے انچارج اجمل کو تشدد کا نشانہ بنایا جب حالت خراب ہوگئی تو جیل چھوڑ کر چلے گئے بعد میں ہپستال میں وہ انتقال کر گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ مسلسل ہو رہا ہے اور ایم کیو ایم آوازِ احتجاج بلند کر رہی ہے لیکن ہمیں پاکستان میں نہ عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے اور نہ ایوانوں اور حکومت سے داد رسی ہو رہی ہے۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے بھی رینجرز کی حراست میں ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں الطاف حسین نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے مطالبہ کیا کہ وہ آفتاب احمد کی دوران حراست ہلاکت کا نوٹس لیں اور اس کی عدلیہ کی زیرنگرانی تحقیقات کروائیں۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ کہا کہ آفتاب احمد حراست میں ہلاک ہونے والے ایم کیوایم کے پہلے کارکن نہیں ہیں اور ’اس سے پہلے بھی لاتعداد ذمہ داران اورکارکنان حراست کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں، ہزاروں کارکنان جیلوں میں اسیر ہیں۔‘

انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 15 ماہ کے دوران آفتاب سمیت 11 افراد پولیس اور رینجرز کے حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ سال انجمن نوجوان اسلام کے سربراہ طارق محبوب بھی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ بھی رینجرز کے 90 روزہ ریمانڈ پر تھے تاہم حکام کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ آفتاب احمد کی ہلاکت کی تحقیقات کی ٰضرورت ہے، اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے جو واقعات پیش آئے تھے ان میں تشدد کیا گیا تھا۔

’جب 90 روز کی مدت ملتی ہے تو اس میں تشدد کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، ایم کیو ایم کے کارکن ہوں یا کسی اور جماعت کے جب انہیں چھوڑا جاتا ہے تو ٹی وی کوریج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت رینجرز کو گذشتہ دو سالوں سے مشتبہ افراد کو 90 روز تحویل میں رکھنے کے اختیارات دیے گئے تھے۔

ہر تین ماہ بعد ان میں اضافہ ہوتا ہے اور منگل کو ان اختیارات کی مدد پوری ہو رہی ہے، اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں