’وزیرِ اعظم کے استعفے پر حزب مخالف میں اتفاق رائے نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’نواز شریف اور اُن کا خاندان کے خلاف تحقیقات تین ماہ میں مکمل کی جائیں گی ‘

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اُنھیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کے استعفے سے متعلق حزب مخالف کی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں ہے تاہم اس سے حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

منگل کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ایک متفقہ ضابطہ کار حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے افراد کے اثاثوں کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی۔

٭ ضابطہ کار پر حزبِ مخالف کی جماعتیں متفق: شاہ محمود

٭ حزبِ اختلاف وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے سے ’دستبردار‘

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس متفقہ ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف اور اُن کے خاندان کے خلاف تحقیقات تین ماہ میں مکمل کی جائیں گی جبکہ جن دیگر افراد کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں اُن کے خلاف تحقیقات ایک سال میں مکمل کی جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ نواز شریف عدالتی کمیشن کی تشکیل سے پہلے سنہ 1985سے اپنے اور اپنے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات پیش کریں جن کی کمیشن تحقیقات کرے گا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس میں دو ججز بھی شامل ہوں جن کی منظوری چیف جسٹس دیں۔

اجلاس میں شریک جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ سیاسی تو ہو سکتا ہے لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم پر اس بارے میں ابھی الزام عائد کیا گیا ہے جو ابھی ثابت نہیں ہوا۔ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کے ٹی او آرز کے بارے میں حکومتی ردِ عمل ابھی سامنے نہیں آیا۔

اس سے پہلے حزب اختلاف کے اجلاس میں شامل تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں فرانزک کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جائیں تاہم کسی بھی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے سے پہلے اخبارات میں اشتہار دیے جائیں اور پیشہ وار کمپنی کا انتخاب عمل میں لایا جا سکے۔ اس ضابطہ کار میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات سب سے پہلے وزیراعظم اور اُن کے خاندان سے شروع کی جائیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ان ٹی او آرز کو تسلیم نہ کیا تو پھر حزب مخالف کی جماعتیں پلان بی پر عمل درآمد کریں گی۔

اسی بارے میں