کوئٹہ میں دھماکہ، پانچ پولیس اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال رہے کہ کوئٹہ کے علاقوں میں پہلے بھی بم دھماکوں اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق پولیس کے ریپڈریسپانس گروپ (آر آر جی) سے بتایا جاتا ہے۔

منگل کو ہونے والا یہ دھماکہ شہر کے مشرقی بائی پاس پر بھوسا منڈی کے قریبی علاقے میں ہوا ہے۔

جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے ایس ایس پی آپریشن سید ندیم حسین نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد کو اس وقت ریموٹ کنٹرول سے اڑایاگیا جب پولیس اہلکاروں کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا اور اس میں سوار پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان کے حلقہ محسود کے کمانڈر شہریار گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں ان میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ا یس ایس پی آپریشن سید ندیم حسین کے مطابق اس حملے میں دو کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ مشرقی بائی پاس اور کوئٹہ کے دیگر علاقوں میں پہلے بھی بم دھماکوں اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

رواں سال اب تک ان واقعات میں 15 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

درایں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔

اسی بارے میں