متحدہ کے کارکن کی ہلاکت پر انکوائری کا حکم، اہلکار معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی فوج کے سربراہ نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن آفتاب احمد پر دورانِ حراست مبینہ تشدد اور ہلاکت کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ادھر رینجرز کے سربراہ نے اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کر کے تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔

٭ رینجرز کے زیرِ حراست، ایم کیو ایم کا کارکن ہلاک

٭ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر 90 دن کے لیے حراست میں

ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے رابطہ کار تھے، جو منگل کو جناح ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ آفتاب احمد کی ہلاکت رینجرز کے تشدد سے ہوئی ہے۔

Image caption ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے رابطہ کار تھے

بدھ کو آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ آفتاب احمد کے کیس میں حقائق جاننے کے لیے انکوائری کا حکم فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دیا اور ساتھ ہی اس مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ہدایت دی۔

اس سے قبل رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تین سطری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر رینجرز سندھ بلال اکبر کے حکم پر آفتاب احمد کی موت کے محرکات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کی سربراہی رینجرز سیکٹر کمانڈر کریں گے۔

رینجرز کے اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کمیٹی کتنے روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی، صرف یہ کہا گیا ہے کہ کہ جلد از جلد تحقیقات مکمل کر کے حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ رینجرز نے آفتاب احمد کو حراست میں لینے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 90 روز کا ریمانڈ لیا تھا۔ اُن پر ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

رینجرز کے اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے میں ممکنہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی تعداد اور عہدوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے آفتاب احمد کی ہلاکت کے خلاف بدھ کو یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 15 ماہ کے دوران آفتاب سمیت 11 افراد پولیس اور رینجرز کی حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

گذشتہ سال انجمن نوجوان اسلام کے سربراہ طارق محبوب بھی رینجرز کی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ بھی رینجرز کے 90 روزہ ریمانڈ پر تھے تاہم حکام کا کہنا تھا کہ وہ جیل میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت رینجرز کو گذشتہ دو سالوں سے مشتبہ افراد کو 90 روز تحویل میں رکھنے کے اختیارات دیے گئے تھے۔

اسی بارے میں