پاکستانی دبئی میں تیسرے بڑے سرمایہ کار

دبئی تصویر کے کاپی رائٹ Lauren Bath
Image caption گذشتہ کچھ برسوں سے دبئی کی پراپرٹی میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے

گذشتہ دس برس سے دبئی کی پراپرٹی کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں لیکن حال ہی میں ایسا لگتا ہے کہ ان میں وہ دم نہیں رہا۔

سنہ 2002 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے خاص فری ہولڈ زون بنانے کے بعد یہ خلیجی امارات ایک پسندیدہ ریئل سٹیٹ مارکیٹ کے طور پر ابھری۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 2008 میں قیمتیں اپنے عروج پر تھیں لیکن اس کے بعد عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے پیسہ ختم ہوا اور قیمتیں یکدم گر گئیں۔

پراپرٹی کنسلٹینسی فرم جانز لانگ لا سال میں مینا ریسرچ کے سربراہ کریگ پلمب کے مطابق گذشتہ برس قیمتوں میں 12 فیصد کمی آئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت مارکیٹ ایک قسم کی سافٹ لینڈنگ کر رہی ہے، قیمتیں ایک سال سے گر رہی ہیں۔ ہمارے خیال میں مارکیٹ میں گراوٹ جاری رہے گی، لیکن اتنی نہیں جتنی پہلے گر چکی ہے۔‘

پلمب کہتے ہیں کہ دبئی کی مارکیٹ سمندر پار کی طلب کی وجہ سے چلتی ہے جن کی کرنسیاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہونے کی وجہ سے، جس کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا درہم جڑا ہوا ہے، قیمتیں بڑھ گئیں۔

نائٹ فرینک پراپرٹی کنسلٹینسی میں مینا ریسرچ کی سربراہ دانا سالباک کہتی ہیں کہ ’ہم نے 2015 میں رہائشی سیکٹر میں 10 فیصد قیمتوں میں کمی دیکھی۔ لیکن اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ایسا نہیں ہوا۔‘

نائٹ فرینک کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق ’غیر ملکی کرنسی رکھنے والے خریداروں کے لیے اب دبئی کی ریئل سٹیٹ زیادہ مہنگی ہے۔‘

دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بھارتی سرمایہ کار سرِ فہرست ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق انھوں نے 2015 میں دبئی میں ہونے والی کل 135 ارب درہم کی سرمایہ کاری میں سے 20 ارب درہم کا سرمایہ لگایا تھا۔

اس کے بعد برطانوی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کا نمبر آتا ہے جنھوں نے بالاترتیب 10.8 ارب اور 8.4 ارب درہم لگائے ہیں۔ ایرانیوں نے 4.6 ارب، کینیڈینز نے 3.7 ارب اور روسیوں نے 2.7 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔

سالبک کہتی ہیں کہ قیمتیں مستحکم ہوئی ہیں جو کہ ایک اچھی علامت ہے، ایسی علامت جس سے پتہ چلتا ہے کہ مارکیٹ دائرے کے نیچے تک پہنچ چکی ہیں۔ قیمتوں کو اگلے سال بہتر ہونا چاہیے۔‘

عمار پراپرٹیز کے چیئرمین محمد الابار، جس نے دبئی میں برج الخلیفہ سمیت بڑی بڑی عمارتیں بنائی ہیں، اس صورتِ حال سے مطمئن نظر آتے ہیں۔

انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم طویل مدتی کاروبار میں ہیں۔ چکر آتے جاتے رہتے ہیں۔ قیمتوں میں حالیہ کمی ’او کے‘ ہے۔‘ ’ہم کاروبار میں ہیں۔ یہ اتنا برا نہیں۔‘

’سبھی چاہتے ہیں کہ قیمتیں بڑھیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انھیں گنجائش کے قابل ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں رسد اور طلب میں توازن، بہت حوصلہ افزا ہے۔‘

سالبک کہتی ہیں کہ اس وقت رسد کو کنٹرول کیا جا رہا ہے، اور ڈویپلپرز محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور طلب کے مطابق منصوبوں کو بتدریج مکمل کرنا چاہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں