اربوں کے مالک مگر سیاسی طور پر غریب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انگریزی زبان کی ایک اصطلاح ہے، ’فلتھی رچ‘۔ یہ اصطلاح اُن امیروں یا سرمایہ داروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کی دولت اور سرمائے کی حد نہ ہو۔ اس کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایسی دولت جس کی بہتات سے بدبو آنے لگے۔

٭ اپوزیشن کا ضابط کار غیر آینی اور بدنیتی پر مبنی ہے

٭ حزب اختلاف وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے سے دستبردار

پاکستان میں پاناما پیپرز کے حقائق نے دولت کے جن انباروں سے پردہ اُٹھایا ہے اُن سے اُٹھنے والے تعفن میں سانس لینا بھی محال ہے۔

غریب ملک میں غریبوں کے ’فلتھی رچ‘ نمائندے ایک دوسرے پر جو کیچڑ اچھال رہے ہیں اس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تلخی اور زہر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف اور حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور جوابی الزامات سے لگتا ہے کہ ملک میں ہر دوسرا عوامی نمائندہ ’فلتھی رچ‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہزاروں کروڑ اور سینکڑوں ارب کی باتیں ہو رہی ہیں اور عام آدمی کا ذہن ان ہندوسوں کا احاطہ کرنے سے بھی قاصر ہے۔ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک غریب ملک جس میں بے روز گاری ، غربت ، افلاس، ناخواندگی ، بھوک اور دیگر مسائل کے بوجھ تلے عوام پستے چلے جا رہے ہیں وہاں حکمران طبقے کے لوگ کسی طرح امیر سے امیر ترین ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

بیرون ملک اثاثے بنانے والے رہنماؤں میں پیپلز پارٹی کی قائد کا نام بھی شامل ہے لیکن تمام تر توجہ نواز شریف پر مرکوز ہو جانا حکومتی جماعت کے لیے حیران کن ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے وزیر اعظم کے لیے اپنے خلاف الزامات کا جواب دینا اپنے عہدے کی وجہ سے بہت ضروری ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی طرف سے جو بیانات سامنے آئے ہیں ان میں واضح تضادات کا جواب دینے کے بجائے پوری حکومتی مشینری یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ آف شور کمپنیوں میں دو سو سے زیادہ اور لوگوں کے نام بھی شامل ہیں۔ حکومت بینکوں سے قرضے معاف کرنے کی بات بھی کر رہی ہے۔

لیکن یہ جواب دینے کے لیے تیار نہیں کہ نواز شریف نے اپنے اقتدار کے تیسرے دور میں موجودہ دور اور اس سے قبل ماضی میں دو مرتبہ جب وہ اقتدار میں رہے تو انھوں نے قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی۔ پاناما پیپرز کے سامنے آنے کے بعد ہی انھیں قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف کارروائی کا خیال کیوں آیا۔

پاناما پیپرز میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے والد کی ایک آف شور کمپنی کا نام بھی آیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے ابتدا میں چند دن کے لیت و لعل کے بعد پارلیمان میں آ کر اپنے تمام اثاثوں اور گزشتہ چھ برس میں ادا کیےگئے ٹیکسوں کی تفصیل بیان کر دی۔

ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے اپنے اثاثوں کی تفصیل سامنے آنے کے بعد یہ ساری بحث دم توڑ گئی۔ ڈیوڈ کیمرون کے والد نے آف شو کمپنی بنائی تھی اور اس فہرست میں ڈیوڈ کمیرون کا نام نہیں تھا۔

دو آف شور کمپنیوں کے حوالے سے نواز شریف کے صاحبزادوں کے نام لیے جا رہے ہیں اور حسین نواز ان کی ملکیت کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کے نام کی بازگشت پاکستانی سیاست میں نوے کی دہائی سے سنی جا رہی ہے۔ اس ضمن میں بہت سے سوالات ایسے ہیں جس کا جواب حکمران خاندان تاحال دینے میں ناکام ہے۔ اگر ڈیوڈ کیمرون اپنے والد سے حاصل کی گئی دولت کی تفصیل بتا سکتے ہیں تو نواز شریف سے یہ پوچھنا کہ انھوں نے اپنے بچوں کو ورثے میں کتنی رقم دی ہے ناجائز نہیں ہے۔

عام طور پر آپ اپنے والدین کے فیصلوں کے جوابدہ نہیں ہو سکتے لیکن ذمہ دار، مذہبی اور روایتی مشرقی اقدار کا پاس کرنے والے والدین ہونے کے ناطے آپ کو اپنی اولاد کے ہر فیصلے کا جوابدیدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جب آپ کی اولاد کو آپ سے ورثے میں بے انتہا دولت اور جائیداد ملی ہو۔

پاکستان میں یہ بحث ایک سیاسی بحران کی کیفیت اختیار کر گئی ہے۔ شریف فیملی کی دولت اور امرات کی نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں لیکن سیاسی طور پر حکمران جماعت غریب تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ سیاسی منظر نامے پر وہ تنہا کھڑی نظر آتی ہے۔شریف خاندان کا دفاع کرنے والوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہو چکی ہے۔

نواز شریف پارلیمان میں کھڑے ہو کر اس صورت حال کا سامنا کرنے سے گریزاں ہیں۔ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے ارکان کی تعداد 188 ہے اور اس میں اگر حکومتی جماعت کے 26 سینیٹروں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 216 جاتی ہے۔ لیکن ٹی وی چینلوں پر ہونے والے مباحثوں اور اخباری بیانات میں شریف فیلمی کا دفاع کرنے والوں کی تعداد ایک درجن سے زیادہ نہیں ہے۔

حکومتی بنچوں کی پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے کیا سوچتے ہیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کیونکہ اپنی قیادت کی طرف سے انھیں بات کرنے کی تو کجا شاید ایسے معاملات پر سوچنے کی بھی اجازت نہیں۔

اسی بارے میں