اپوزیشن کا ضابطہ کار مسترد لیکن ’بات چیت کے لیے تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن کی جانب سے مثبت تجاویز آنے کی امید تھی تاکہ مل بیٹھ کر اگر ہو سکے تو متفتہ ضابطہ کار طے کر لیا جائے لیکن مایوسی ہوئی

حکومت نے پاناما لیکس کی تحقیقات کےلیے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ایک متفقہ ضابطہ کار کو غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن کی جانب سے مثبت تجاویز آنے کی امید تھی تاکہ مل بیٹھ کر اگر ہو سکے تو متفتہ ضابطہ کار طے کر لیا جائے لیکن مایوسی ہوئی۔

٭ ’وزیر اعظم پارلیمان میں جواب دیں‘

٭ ضابطہ کار پر حزبِ مخالف کی جماعتیں متفق: شاہ محمود

لیکن اسی دوران حکومت اور حزب اختلاف کی کم از کم ایک جماعت تحریک انصاف نے مل بیٹھ کر پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے ظابطہ کار تیار کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

حکمراں جماعت کے سرکردہ رہنما اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں تصدیق کی ہے کہ ان کا تحریک انصاف کے سینر رہنما جہانگیر ترین کے ساتھ اتفاق ہوا ہے کہ دونوں جماعتیں مل کر متفقہ ٹی اور آرز کی تیاری کے لیے کام کریں گی۔

دونوں رہنماوں نے مل کر نئے ظابطہ کار کی تیاری پر اتفاق کا اعلان کیا۔ دونوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ماضی میں انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی ضابطہ کار متفقہ طور پر تیار کیے گئے تھے۔

پریس کانفرنس میں وفاقی وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن کےضابطہ کار کو پڑھ کر سخت مایوسی ہوئی کیونکہ اس کے مندرجات اور جو الفاظ استعمال کیےگئے ہیں، اس سے اپوزیشن کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے۔‘

انھوں نےضابطہ کار کے نکات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں جو سب سے زیادہ بدنیتی ظاہر ہوتی ہے کہ ان کی تمام طرح اور مکمل توجہ وزیراعظم کی ذات پر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ جو الفاظ استعمال کیےگئے ہیں، اس سے اپوزیشن کی بدنیتی صاف ظاہر ہوتی ہے

وفاقی وزیر قانون کے مطابق حزب اختلاف کےضابطہ کار میں کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کے لیے’ایک نیا قانون بنایا جائے حالانکہ 1956 کا کمیشن آف انکوائری بنا ہوا ہے اور اسی کے تحت حقائق جاننے کی لیے تحقیقاتی کمیشن بنائے گئے ہیں جس میں حمودالرحمان کمیشن اور ایبٹ آباد کمیشن بھی شامل ہے۔ لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن میں ماہرین کی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں انھیں مکمل اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ وہ کھاتوں اور دیگر دستاویزات تک مکمل رسائی حاصل کر سکیں اور ایسا نہ کیا گیا تو مجرم ہیں۔‘

وفاقی وزیر قانون نے حزب اختلاف کےضابطہ کار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس قسم کی تجاویز غیر آئینی، غیر مناسب اور بدنیتی پر مبنی ہیں اور لگتا نہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ کمیشن بنے اور صحیح حقائق عوام کے سامنے آئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ضابطہ کار میں وزیراعظم کو پہلے ہی قصور وار تصور کر لیا گیا ہے اور یہ ہمارے بنیادی قانونی نظام کے خلاف ہے۔

اس موقع وفاقی وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سنجیدہ ہے اور اپوزیشن کا ہر ایک مطالبہ تسلیم کیا۔

تاہم اب حزب مخالف کاضابطہ کر سامنے آیا تو اس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ وہ ان الزامات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

’ہم اس معاملے کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں اور آج کے اجلاس میں جب ضابطہ کار کی تفصیلات سامنے آئیں تو لگا ایسے کہ ہم کسی اور ملک میں رہتے ہیں اورضابطہ کار بنانے والے کسی اور ملک میں رہتے ہیں۔ انھیں پاکستان کے کسی قانون پر اعتماد نہیں، کسی ادارے پر اعتماد نہیں، اور صرف پسریم کورٹ کو چھوڑ کر ہر چیز نئی بنانا چاہتی ہے۔‘

چوہدری نثار کے مطابق آج ہمارا خیال تھا کہ ٹی او آرز سامنے آنے کے بعد حکومت موقف دے گی اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہم ایک متفقہ رائے سپریم کورٹ کو دیں گے لیکن جب ضابطہ کار کے نکات کو ایک ایک کر پڑھا گیا تو سوائے افسوس کے کچھ نہیں تھا۔

اسی بارے میں