ہری پور: سکیورٹی فورسز کی کارروائی، تین مبینہ دہشت گرد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے

صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں حکام کا کہنا ہے کہ فوج اور پولیس کی ایک مشترکہ کارروائی میں خاتون سمیت تین مبینہ دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں حساس ادارے کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہری پور کے علاقے خان پور میں پنڈ گاگڑا کے مقام پر پیش آیا۔

خان پور پولیس سٹیشن کے انچارج بشیر احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ ایک مکان میں کچھ شدت پسندوں نے پناہ لے رکھی ہے جس پر سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جانب سے ان کے خلاف مشترکہ کارروائی کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ آپریشن میں تین مبینہ دہشت گرد مارے گئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔

کارروائی میں دوسکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے اہلکار کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق ایک حساس ادارے سے ہے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مرنے والے شدت پسندوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور ان میں باپ ، بیٹا اور بیوی شامل ہیں۔

ادھر یہ اطلاعات بھی ہے کہ اس کارروائی پر مقامی لوگوں کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیاگیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کے ایک بھائی ویلج کونسل کے چیئرمین ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق کی بناء پر مذکورہ ویلج کونسل کے چیئرمین کا نام ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ہری پور ہزارہ ڈویژن کا ایک ضلع ہے جہاں اس سے پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ علاقہ پرامن رہا ہے۔

اسی بارے میں