آفتاب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جسم پر تشدد کے نشانات

Image caption آفتاب احمد ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے رابطہ کار تھے

کراچی میں رینجرز کی تحویل میں ہلاک ہونے والے ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آفتاب کے جسم کے 30 سے 40 فیصد حصے پر نیل کے نشانات پائے گئے ہیں۔

٭ آرمی چیف کے حکم پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مطمئن

جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں کیمیکل اور پیتھالوجیکل رپورٹ کا نتیجہ موت کی وجہ کے بارے میں فیصلہ آنے تک محفوظ رکھا گیا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جسم کے مختلف حصوں میں متعدد زخم تھے جو مختلف نوعیت اور سائز کے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کن پٹیوں پر نیل کے نشانات ملے ہیں۔ اس کے علاوہ سینے، پسلیوں کے اوپر، بازووں کے سامنے اور پیچھے، دونوں کولھوں، دونوں رانوں کے اگلے اور پچھلے حصوں، دونوں ٹانگوں ، پاؤں کے اوپر اور تلووں پر بھی گہرے نیل کے نشانات پائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ afp

رپورٹ کے مطابق کھوپڑی اور دماغ کے درمیان خون نظر نہیں آیا لیکن دماغ کے مختلف حصوں پر سوجن موجود تھی۔ دماغ کے دائیں حصے کے نمونے کو پیتھالوجیکل رپورٹ کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آفتاب احمد متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے کوارڈینیٹر تھے۔ رینجرز نے انھیں گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 90 روز تحویل میں رکھنے کی اجازت لی تھی اور اسی دوران ان کی ہلاکت ہوگئی۔

ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہے کہ آفتاب احمد کی موت رینجرز کے تشدد کے وجہ سے ہوئی ہے جبکہ رینجرز نے اس کو فطری موت قرار دیا تھا۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے جبکہ رینجرز نے ممکنہ طور پر واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

اسی بارے میں