خیبر پختونخوا میں وکیلوں سمیت پانچ افراد کی ٹارگٹ کلنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں پولیس نے ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا ہے جس میں 85 کے قریب ٹارگٹ کلرز کی فہرست تیار کی گئی ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں مختلف واقعات میں دو وکیلوں سمیت پانچ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ڈیرہ میں ہلاک ہونے والے چاروں افراد کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلا واقعہ کینٹ پولیس تھانے کی حدود میں واقع علاقے مریالی میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق موٹر سائکل پر سوار نا معلوم افراد نے فائرنگ کی جس سے ایک شحص موقع پر ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا تھا۔

پولیس کے مطابق زخمی شحص ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کے نام مختیار حسین گشکوری اور اختر حسین بتائے گئے ہیں۔

مریالی ملتان روڈ پر واقع ہے اور انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اس واقعے کے ایک گھنٹہ بعد اسی تھانہ کینٹ کی حدود میں گرڈ روڈّ پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو وکیلوں کو ہلاک کر دیا۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ دونوں وکلا موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ ان پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کر دی۔

ہلاک ہونے والے دونوں افراد کے نام عاطف زیدی اور علی مرتجز بتائے گئے ہیں اور دونوں کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

وکلا نے جمعے کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ وکلاء بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

گذشتہ ماہ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نوجوان وکیل کو ڈیرہ اسماعیل خان کے گنجان آباد علاقے بازار توپانوالہ میں فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

اس کے علاوہ شام پشاور میں نا معلوم افراد نے دلہ زاک روڈ پر ریوینو ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق انور زیب اپنے ڈرائیور کے ساتھ آبائی علاقے صوابی جا رہے تھے کہ دلہ زاک روڈ پر امن چوک کے قریب نا معلوم افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ انور زیب کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پشاور میں گذشتہ رات پھندو کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ پشاور میں پولیس نے ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا ہے جس میں 85 کے قریب ٹارگٹ کلرز کی فہرست تیار کی گئی ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان میں سے آٹھ ٹارگٹ کلرز کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں