پشاور میں فائرنگ سے پولیس کا اہلکار ہلاک

Image caption پشاور سمیت دیگر چند علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک اور پولیس اہلکار فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی شب پشاور کے مضافات میں پھندو کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق سپاہی اعجاز پشتخرہ تھانے میں تفتیش کے شعبے میں تعینات تھے اور رات سادہ کپڑوں میں گھر سے باہر نکلے تو نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ حملہ آور موٹر سائکل پر سوار تھے اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

اعجاز ضلع صوابی کے رہائشی تھے جہاں آج جمعرات کی دوپہر ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔

درین اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک ای میل میں پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ۔

خیبر پختونخوا کے دادالحکومت پشاور سمیت دیگر چند علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان واقعات میں زیادہ تر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

چند روز پہلے پشاور کے تہکال کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک مدرسے پر دستی بم پھینکا تھا جس میں 18 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اسی طرح 27 اپریل کو پھندو کے ہی علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پولیس کے اے ایس آئی قیصر علی شاہ کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ اس سے چند روز پہلے گلبہار کے علاقے نا معلوم افراد نے لیڈی ڈاکٹر اور ان کے سسر کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا جب وہ ڈیوٹی پر جا رہی تھیں۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سٹرائیک اینڈ سرچ آپریشن تو جاری ہیں جس میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں افراد کو حراست میں لیا جاتا ہے لیکن تشدد کے واقعات معمول سے پیش آ رہے ہیں۔

اسی بارے میں