ہرنوں کا شکار کرنے پر تین اراکینِ اسمبلی کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption رکن قومی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی کے فرزند راجہ بلالانی نے فیس بک پر شکار کی یہ تصاویر پوسٹ کی تھیں، جو شیئر ہوتے ہوتے میڈیا تک بھی پہنچ گئیں اور حکومت کو مقدمہ دائر کرنا پڑا

سندھ کے صحرائے تھر میں نایاب آٹھ چنکارا ہرنوں کا شکار کرنے کے الزام میں تین اراکینِ اسمبلی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

جن تین اراکینِ اسمبلی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے ان کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

مٹھی میں محکمۂ جنگلی حیات کی جانب سے دو اراکین قومی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی، غلام مصطفیٰ شاہ اور ایک رکن صوبائی اسمبلی سردار چانڈیو سمیت سات افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

٭ ہرنوں کا شکار: تحقیقات کا حکم

گیم وارڈن اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ تحفظ جنگلی حیات کے قانون کی دفعہ 10،7، 14 اور 17 کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اشفاق میمن کے مطابق اب محکمے کے پاس دو راستے ہیں جن میں یا تو ملزمان پر 30 ہزار سے تین لاکھ رپے فی ہرن جرمانہ عائد کیا جائے یا مقدمہ عدالت میں پیش کر دیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ انھیں سزا سنائے، جرمانہ کرے یا پھر دونوں استعمال کرے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین روز سے تین اراکینِ اسمبلی کی شکار کیے گئے ہرنوں کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر موجود ہیں جن کی بنیاد پر قحط زدہ صحرائے تھر میں حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption سنہ 2009 میں اس وقت کے رکن قومی اسمبلی عامر مگسی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ کے خلاف خیرپور کے قریب نارا صحرا میں تیتر کا شکار کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

رکن قومی اسمبلی فقیر شیر محمد بلالانی کے فرزند راجہ بلالانی نے فیس بک پر شکار کی یہ تصاویر پوسٹ کی تھیں، جو شیئر ہوتے ہوتے میڈیا تک بھی پہنچ گئیں اور حکومت کو مقدمہ دائر کرنا پڑا۔

گیم وارڈن اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ تصاویر میں دیکھا گیا کہ یہ تھرپارکر کا علاقہ ہے تو اس کی تحقیقات کی گئیں جس کے بعد اور اراکین اسمبلی سے رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے اپنے جرم تسلیم نہیں کیا تاہم بعد میں تمام حقائق سامنے آگئے۔

انڈیا کی ریاست گجرات اور راجستھان کے سرحدی ضلعے تھر پارکر میں ہرن، تیتر اور مور سمیت کئی جنگلی جانور پائے جاتے ہیں۔ رن آف کچھ میں بندر اور چیتے بھی پائے جاتے ہیں جو کبھی کبھار آبادیوں کا رخ کر لیتے ہیں۔

اس وسیع صحرا میں جنگلی حیات کے تحفظ کی نگرانی کے لیے صرف ایک جیپ اور 18 کے قریب ملازم موجود ہیں۔

گیم وارڈن اشفاق میمن کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شکاری باہر سے آئے اور شکار کر کے چلا جائے گا یہاں پر لوگوں کا رابطہ کاری کا نظام موجود ہے اور وہ اجنبی گاڑی اور لوگوں کو دیکھ کر فوری اطلاع کر دیتے ہیں۔

جنگلی جانوروں کے تحفظ کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اہلکار ڈاکٹر معظم علی خان کا کہنا ہے کہ پانچ یا سات ہرن کھانے کے لیے تو نہیں مارے گئے یہ طاقت کے اظہار کے لیے شکار کیے گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 2009 میں اس وقت کے رکن قومی اسمبلی عامر مگسی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ کے خلاف خیرپور کے قریب نارا صحرا میں تیتر کا شکار کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔گذشتہ سات سالوں میں غلام مصطفیٰ شاہ پر یہ دوسرا مقدمہ ہے۔

ڈاکٹر معظم علی خان کا کہنا ہے کہ سخت قوانین موجود ہیں لیکن بڑے لوگ اثر و رسوخ کی وجہ سے بچ نکلتے ہیں۔

اسی بارے میں