مٹھائی میں زہر کیسے ملا؟، ایک اور اقبالی بیان سامنے آ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک شدگان میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد بھی شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر لیہ میں حکام کے مطابق زہریلی مٹھائی کھانے سے ہلاکتوں کے مقدمے میں ایک نیا موڑ آیا ہے اور اب گرفتار ملزمان میں سے ایک نے اپنے بڑے بھائی کے ناروا سلوک کی وجہ سے مٹھائی میں زہریلی دوائی ملانے کا اعتراف کیا ہے۔

زہریلے لڈو کھانے سے 30 افراد کی ہلاکت کا واقعہ گذشتہ ماہ پیش آیا تھا اور اب مقدمے کی تفتیش کرنے والی پولیس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ مٹھائی میں کیڑے مار دوائی کسی اور نے نہیں بلکہ مٹھائی کی دکان کے مالک کے چھوٹے بھائی نے ملائی تھی۔

*لیہ: زہریلی مٹھائی سے ہلاکتیں 22، قتل کا مقدمہ درج

لیہ میں زہریلی مٹھائی کھانے پر 30 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت اور علاج کے بروقت انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ تحقیقاتی کمیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے احکامات پر قائم کی گئی تھی اور رپورٹ آنے کے بعد وزیر اعلیٰ نے لیہ کے ضلعی رابطہ افسر (ڈی سی او) اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو معطل کردیا ہے۔

اس سے قبل پولیس مٹھائی کی دکان سے متصل زرعی ادویات کی دکان کے مالک کا اقبالی بیان بھی پیش کر چکی ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے دکان کے مالک طارق محمود سے رنجش کی بنا پر مٹھائی میں کیڑے مار دوائی ملا دی تھی۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم لغاری نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایاکہ دوران تفتیش طارق محمود کے چھوٹے بھائی اور ملزم خالد محمود نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے اس مٹھائی میں کیڑے مار دوا اپنے بڑے بھائی کے نارواسلوک کی وجہ سے ملائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اُس کا بڑا بھائی طارق محمود نہ صرف اُنھیں خرچہ نہیں دیتا تھا بلکہ اس کو زدوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سرعام بےعزتی بھی کرتا تھا جس کا اسے رنج تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق اس معاملے کو صرف خالد محمود کے بیان کی حد تک نہیں لے رہے بلکہ اس واقعہ کی کڑیاں ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صحافی ناصر خان کے مطابق پنجاب پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر کا کہنا ہے کہ اب خالد سمیت سات ملزمان اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں جن میں مٹھائی کی دکان کا مالک طارق محمود اور اس کا ایک ملازم، محکمہ زراعت کا ایک مقامی افسر اور زرعی ادویات بنانے والے مقامی کارخانے کے تین ملازم شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زہریلی مٹھائی کھانے سے30 افراد ہلاک ہو گئے تھے

مقامی پولیس خالد کے بیان سے قبل دو مختلف ملزمان کی جانب سے مٹھائی میں زہریلی دوا ملانے کے اعتراف کا اعلان کر چکی ہے۔

ایک ملزم عبدالغفار کے اقبالی بیان کے بعد پولیس نے ملزم کی دکان سے دیگر کیڑے مار ادویات بھی برآمد کرنے کے علاوہ وہ خالی بوتل بھی برآمد کی تھی جس کے بارے میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس بوتل سے مٹھائی تیار کرتے ہوئے دوا برتن میں ڈالی گئی تھی۔

اس سے پہلے پولیس حکام کی طرف سے ایک اور ملزم حامد خان کا بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں ملزم کا کہنا تھاکہ اس نے غلطی سے یہ دوائی مٹھائی تیار کرتے وقت ڈال دی تھی جس کے بارے میں ملزم نے اس دکان کے مالک طارق محمود کو بھی بتایا تھا۔

لیہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) محمد علی ضیا کی جانب سے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق احمد سکھیرا کو پیش کی گئی مٹھائی کی فورینزک رپورٹ میں یہی انکشاف ہوا تھا کہ مٹھائی میں زہریلے کیمیکل کا استعمال کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق آئی جی پنجاب ، مشتاق احمد سکھیرا نے ڈی پی او لیہ کو اس مجرمانہ فعل میں ملوث افراد کی بھرپور تفتیش اور اس کے نتیجے میں مجرموں کے تعین کے بعد ان کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں تا کہ آئندہ کوئی بھی شخص کاروبار کے نام پر لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیل سکے۔

خیال رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے 30 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے جن کی اس دکان کے مالک یا متاثرہ شخص عمر حیات سے ممکنہ طور پر دشمنی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں