’دہشت گردوں اور دھرنے والوں کا ایجنڈا ایک ہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ APP

پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے تینوں ادوار میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی اور ملک میں دھرنے کی سیاست کرنے والوں اور دہشت گردوں کا ایجنڈا ایک ہی یعنی عدم استحکام ہے۔

جمعے کو سکھر میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے سلسلے میں سڑک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے شرکا سے سوال کیا کہ دہشت گرد کیا چاہتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کا راستہ روکنا اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

٭ ’کسی کو ترقی کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں دیں گے‘

٭ ’اپوزیشن حکومت سے لڑائی کے موڈ میں نہیں ہے‘

’جو سڑکیں اور چوراہوں کو روکنے والے ہیں ان کا ایجنڈا کیا ہے، کیا وہ امن و امان خراب نہیں کرنا چاہتے، کیا وہ خوشحالی کا راستہ نہیں روکنا چاہتے؟ کیا فرق ہے ان میں، دونوں پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنا افراتفری چاہتے ہیں۔‘

محمد نواز شریف نے کہا کہ جیسے آج کا پاکستان تین سال پہلے والے پاکستان سے بہتر ہے، اسی طرح آج کا بلوچستان اور کراچی بھی تین سال پہلے سے بہتر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں بھی بہتری آئی ہے، اسی طرح تین سال پہلے جو دہشت گردی تھی اب وہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے 1990 سے لے کر آج تک تینوں حکومتی ادوار میں کوئی کرپشن نہیں کی اور نہ کک بیکس لی ہیں اور جنرل مشرف نے پوری کوشش کی لیکن ثابت نہیں کرسکے۔

’اب تین سال ہوگئے ہیں ایمانداری سے پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کی تصدیق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کی ہے۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم نے بتایا کہ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت دیگر منصوبوں کے لیے 46 ارب کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ سرمایہ کاری پہلے شروع ہوجاتی لیکن دھرنوں کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ورنہ کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہوتے۔قوم دیکھ رہی ہے کہ کون چین راہداری کا حامی ہے اور کون اس میں روڑے اٹکا رہا ہے۔‘

نواز شریف نے سکھر کے 125 سال قدیم لینسڈاؤن پل کی از سرنو تعمیر کا اعلان کیا اور ساتھ میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کی۔

’ہم پل بنا رہے ہیں وہ وہاں استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ دیکھیں کس کا کیا ایجنڈا ہے۔ انھیں دوسروں کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے۔‘

وزیر اعظم نواز شریف نے گذشتہ تین سالوں میں اپنے دورۂ سندھ کو زیادہ تر کراچی تک ہی محدود رکھا لیکن پاناما لیکس پر پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اور ان سے استعفے کے مطالبے کے بعد انھوں نے اندرون سندھ قدم رکھے ہیں۔

اسی بارے میں