کوئٹہ: چار بچیوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج، والدہ گرفتار

Image caption چاروں بچیوں کی ہلاکت کا واقعہ جمعرات کو اسمنگلی روڈ پر کلی خیزی کے علاقے میں پیش آیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چار بچیوں کی ہلاکت کا مقدمہ ان کی والدہ کے خلاف درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والی چاروں بچیاں بہنیں تھیں جن کی لاشوں کو ان کے گھر کی پانی کی ٹینکی سے نکالا گیا تھا۔

ایئرپورٹ روڈ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بچیوں کی ہلاکت کا مقدمہ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے کیونکہ بچیوں کا کوئی رشتہ دارمقدمہ درج کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ بچی کی والدہ کو ہوش آگیا ہے اور انھیں باقاعدہ گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک وہ سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں۔

چاروں بچیوں کی ہلاکت کا واقعہ جمعرات کو اسمنگلی روڈ پر کلی خیزی کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

Image caption جس ٹینکی سے ان کی لاشوں کو نکالا گیا اس کے پاس ٹوٹی ہوئی چوڑیاں بھی پڑی تھیں۔

ان بچیوں کی والدہ بھی ٹینکی میں پڑی تھی جسے بے ہوشی کی حالت میں نکالا گیا تھا۔ بچیوں کے والد محمد خان نے بتایا کہ بچیوں کی عمر دو سال سےسات سال کے درمیان تھی۔

ہلاک ہونے والی بچیوں میں سے دو سکول یونیفارم میں تھیں غالباً ان کی ہلاکت کا واقعہ ان کی سکول سے واپسی کے بعد پیش آیا۔

پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ بچیوں کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ان کی والدہ کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بچیوں کی والدہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں۔ بچیوں کو ٹینکی میں پھینکنے کے بعد ان کی والدہ نے بھی خود ٹینکی میں چھلانگ لگادی تھی۔‘

تاہم اس المناک واقعے کے اصل حقائق بچیوں کی والدہ کی حالت بہتر ہونے اور تحقیقات کا عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آسکیں گے۔

اسی بارے میں