بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے صوبائی سیکریٹری خزانہ کو 14 روزہ ریمانڈ پر قومی احتساب بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشاق رئیسانی کو بدعنوانی کے الزام میں کوئٹہ میں گرفتار کیا گیا تھا ہے جس کے بعد صوبائی مشیر خزانہ نے بھی استعفی دے دیا تھا۔

* بدعنوانی کا الزام: بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار

* خیبر پختونخوا میں نو سرکاری افسران گرفتار: نیب

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق سنیچر کو مشتاق رئیسانی کو جوڈیشل مجسٹریٹ محمد حنیف کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں نیب کی درخواست پر 14 روزہ ریمانڈ کے لیے نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ۔گذشتہ روز نیب کے ذرا ئع نے دعویٰ کیا تھا کہ مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 60 کر وڑ روپے کی ما لیت سے ز ائد کی ملکی اور غیر ملکی کر نسی برآمد کی گئی ہے۔

مشتاق رئیسانی کو جمعے کو سول سیکریٹریٹ میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے خلا ف محکمہ خزانہ کے صوبائی ملاز مین نے احتجاجی مظا ہرہ کیا اور دفاتر کی تالا بندی کی۔

نیب کے ذرائع کے مطابق شام کو سیکر یٹر ی خزانہ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مجموعی طو ر پر 60کر وڑ روپے کی ما لیت سے ز ائد کی کرنسی برآمد کی گئی جن میں پاکستانی رو پے، امریکی ڈالر ، برطا نوی پاؤنڈ اور ریال بھی شامل تھے۔

مشیر خزانہ بھی مستعفی

سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ مستعفی ہونے کا اعلان انھوں نے جمعہ کی شب ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔

خالد لانگو کا تعلق قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ اڑھائی تین سال سے وہ محکمہ خزانہ کو چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے حلقہ انتخاب میں بھی اس حوالے الزامات لگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ اس محکمے کو چلارہے تھے اس لیے اس بات کا اخلاقی جواز نہیں کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک مشیر خزانہ رہیں اس لیے وہ مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔

اسی بارے میں