’سیکریٹری کے گھر سے 65 کروڑ، 18 لاکھ روپے برآمد ہوئے‘

قومی احتساب بیورو بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل طارق محمود نے کہاہے کہ سابق سیکریٹر ی خزانہ مشتاق رئیسانی کےگھر سے جس بڑے پیمانے پر کرنسی برآمد ہوئی اس کی پاکستان کی تاریخ میں پہلے مثال نہیں ملتی۔

انھوں نے یہ بات سنیچر کو اپنے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئی کی۔

* بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

* بدعنوانی کا الزام: بلوچستان کے سیکریٹری خزانہ گرفتار

* خیبر پختونخوا میں نو سرکاری افسران گرفتار: نیب

طارق محمود کا کہنا تھا کہ سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے خلاف بد عنوانی کا مقدمہ سنہ 2013 سے چل رہا تھا۔

ڈی جی نیب کے مطابق سابق سیکریٹری خزانہ کے گھر سے مجموعی طور پر 65 کروڑ، 18 لاکھ روپے سے زائد کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی جس میں امریکی ڈالر اور برطانوی پاؤنڈز بھی شامل تھے۔

طارق محمود نے اتنی بڑی رقم کی گھر میں رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی کہ شاید ان کو ہنڈی وغیرہ کے ذریعے بیرون ملک بھیجاجانا تھا۔

واضح رہے کہ سابق سیکریٹری خزانہ پر بدعنوانی کا یہ مقدمہ کسی سابق حکومت کے دور میں نہیں بنا بلکہ بلوچستان کی موجودہ حکومت کے دور میں بنا ہے۔ یہ مقدمہ اس وقت بنا جب نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ وزیر اعلیٰ تھے ۔

ڈاکٹر مالک بلوچ کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ ان کے دور میں کرپشن میں کمی آئی ہے لیکن اس کے برعکس ان کے دور میں نہ صرف بدعنوانی کا بڑا سکینڈل سامنے آیا بلکہ اس حوالے سے جن حلقوں کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں ان میں نیشنل پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو بھی شامل ہے جس سے حکومت اور نیشنل پارٹی کو ایک بڑا دھچکہ لگا ہے ۔

اس صورت حال کے پیش نظر میر خالد لانگو نے مشیر کے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

بلوچستان سرکاری فنڈز کی بدعنوانی کے حوالے سے بدنام ہے۔

اب تک نیب کی جانب سے جو گرفتاریاں کی جاتی رہی ہیں وہ زیادہ تر سرکاری ملازمین کی تھیں۔

حکومتوں میں شامل سیاسی لوگ زیادہ تر طاقت کے اصل مراکز کے قریب ہونے کے باعث گرفتاریوں سے بچتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بڑے سکینڈل کے حوالے سے کسی سیاسی شخصیت کے خلاف کاروائی ہوگی یا نہیں۔

اسی بارے میں