’خرم کو دھمکیاں ملتی تھیں لیکن سکیورٹی نہیں دی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں سماجی کارکن اور سابق صحافی خرم ذکی کی نماز جنازہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی۔

اس موقع پر ان کے خرم ذکی کے اہل خانہ نے حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا۔

مقتول کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہرکودھمکیاں مل رہی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ خاندان کو اب بھی خطرہ ہے اور تحفظات ظاہر کرنے کے باوجود سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے شوہر کو خفیہ اداروں نے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ سماجی کارکن خرم ذکی اور راؤ خالد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں خرم ذکی جانبر نہ ہو سکے۔

اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا یہ واقعہ نارتھ کراچی سیکٹر 11 بی میں ایک ہوٹل کے باہر پیش آیا۔

خرم ذکی کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت سرسید تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن میں درج ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان پر فائرنگ کی۔

شدت پسندی کے خلاف متحرک سماجی کارکن جبران ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ خرم ذکی کو شدت پسند تنظیموں اور افراد کی جانب سے وقتاً فوقتاً قتل کی دھمکیاں ملتی رہی تھیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سماجی رہنما خرم ذکی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

خرم ذکی کا شمار سول سوسائٹی کے رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ صحافت کے پیشے سے بھی منسلک رہ چکے تھے۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے خرم ذکی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اسی بارے میں