کوئٹہ کے شمسی بچے: ’جینیاتی معائنہ کیا جا رہا ہے‘

Image caption ڈاکٹروں کے بقول بچوں کی یہ حالت ایک جینیاتی خرابی کے باعث تھی

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ان دو بچوں کا اسلام آباد میں علاج جاری ہے جنھیں ایک مخصوص بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ’شمسی بچے‘ کہا جا رہا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق رشید اور شعیب نامی یہ بچے صبح سے لے کر شام تک ٹھیک رہتے ہیں تاہم شام کے بعد وہ لاغر ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ رشید اور شعیب شام کو اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ انھیں باتھ روم بھی اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں لاحق بیماری کے بارے میں مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

’یہ نئی بیماری ہے اور اس کا کوئی نام نہیں ہے۔‘

’ان کے دو بھائیوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ تین بہنیں بھی ہیں جن کو یہ بیماری نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان دونوں بھائیوں کو تجرباتی ادویات دی جا رہی ہیں۔

’ابھی تک ہمیں لگتا ہے کہ ان کے جسم اور دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹرز کی کمی لگ رہی ہے۔ ہم مصنوعی طور پر ان بچوں کے جسم اور دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹرز کا اضافہ کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان بچوں کے ٹیسٹ لاہور میں واقع جینیاتی لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔ ’اس کے علاوہ ان کے نمونے امریکہ، برطانیہ اور سویڈن بھیجے گئے ہیں۔‘

ان ٹیسٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ان کے جینیاتی معائنے کے لیے ان کے ٹیسٹ مختلف ممالک میں بھیجے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہاں ان کی جینوم خراب ہوئی۔

’ان بچوں کے والدین فرسٹ کزن بھی ہیں اور لگتا ہے کہ ان سے یہ بیماری ان بچوں کو ملی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ میں واقع میاں ہنڈی کے علاقے میں یہ لوگ رہائش پذیر ہیں۔

’ان کے مکان پر بھی ٹیم بھیجی جا رہی ہے تاکہ ان بچوں کی والدہ، تینوں بہنوں اور گاؤں کے دیگر افراد کے نمونے لے کر آئے گی۔‘

ان بچوں کے والد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کے بچے دن بھر ٹھیک رہتے تھے لیکن شام کو انھیں کمزوری محسوس ہونی شروع ہو جاتی تھی اور رات کو وہ اپنے جسم کو بالکل ہلا جلا نہیں سکتے تھے۔

اسی بارے میں