حکومت کا ’انکار‘، اپوزیشن کی نئی حکمتِ عملی پر مشاورت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنما پیر کو اجلاس کر رہے ہیں

پاکستان میں حزبِ اختلاف کے اہم رہنماؤں کا حکومت کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن کے حوالے سے اپنے ضوابطِ کار رد کیے جانے کے بعد کہا ہے کہ وزیراعظم کو ایوان میں آ کر پہلے وضاحت کرنا ہو گی۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کی سربراہی میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایوان میں آ کر اس معاملے پر بات کریں کیونکہ انھوں نے کہا تھا کہ جب پارلیمان موجود ہے تو باہر باتیں کیوں ہو رہی ہیں۔

اس سے پہلے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔

قائد حزب اختلاف کے دفتر سے جاری ہونے والے پیغام کے مطابق اجلاس میں’پاناما پیپرز کے ٹی او آرز پر وزیراعظم کو لکھے گئے خط پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔‘

٭ ’اربوں کے مالک مگر سیاسی طور پر غریب‘

اجلاس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے شروع ہونے والے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں حزب اختلاف کی حکمت عملی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس اجلاس میں تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی کے پارلیمانی رہنما شریک ہوئے۔

خیال رہے کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے جمعرات کو وزیرِاعظم پاکستان کو ایک خط بھجوایا گیا تھا جس کے ساتھ تین مئی کو حزب اختلاف کی نو جماعتوں کی جانب سے پاناما لیکس کے تحقیقاتی کمیشن کے لیے متقفہ طور پر منظور شدہ 15 ضوابطِ کار منسلک تھے۔

ان ضوابط کار میں کمیشن سے سب سے پہلے تین ماہ کی مدت میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم وزیر اعظم سے فوراً استعفے کا مطالبہ شامل نہیں تھا۔

تاہم اپوزیشن کی جانب سے ٹی او آرز وزیرِ اعظم کو بھیجے جانے سے قبل ہی وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے ایک پریس کانفرنس میں انھیں رد کرتے ہوئے بدنیتی پر مبنی قرار دیا تھا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خورشید شاہ نے کہا تھا کہ اپوزیشن پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے بارے میں حکومت سے لڑائی کے موڈ میں نہیں

خط کی روانگی کے بعد خورشید شاہ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہاپوزیشن پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کے بارے میں ’حکومت سے لڑائی کے موڈ میں نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ پرامید ہیں جب حکومت کو ان کا خط ملے گا تو وہ اس پر پوری توجہ دے گی اور یہ نہ صرف حکومت بلکہ نظام کے لیے بھی بہتر ہے۔

تاحال وزیرِ اعظم کی جانب سے اس خط کا جواب سامنے نہیں آیا ہے تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے اتوار کو لاہور میں وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات میں کہا ہے کہ حکومت ٹی او آرز کے معاملے پر ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔

پاناما لیکس پر فل بینچ کی درخواست مسترد

ادھر لاہور ہائیکورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے فل بنچ بنانے کی ایک درخواست مسترد کر دی ہے۔

نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق یہ درخواست تحریک پاکستان کے گوہر نواز سندھو کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور اس میں فل بینچ بنانے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کے اہلِ خانہ کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

پانامہ لیکس کی تحقیقات نیب سے کروانے سے متعلق ایک درخواست پہلے ہی لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کر رکھا ہے۔

پیر کو درخواست کی سماعت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے وفاقی حکومت کا جواب آنے سے پہلے فل بنچ بنانے کی درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

اسی بارے میں