پاکستان میں متوازی عدالتی نظام؟

مفتی عبدالقوی مذہبی عالم ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جج بھی ہیں اور تفتیش کار بھی۔ صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں ان کے ’عدالتی کمرے‘ کے باہر ایک بڑا سائن بورڈ لگا ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہے ’اسلامی عدالت‘۔

مفتی عبدالقوی کی ’عدالت‘ کے باہر بینچ پر مدعیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ طلاق کے حوالے سے کیس کی سنوائی کے لیے آئے ایک مدعی نے کہا ’ہم سرکاری عدالت میں نہیں جانا چاہتے، وہاں وقت لگتا ہے اور بدنامی ہوتی ہے۔ مفتی صاحب کی عدالت میں ہمارا فیصلہ شرعی اور اسلامی قانون کے مطابق ہو گا۔‘

مفتی عبدالقوی کی یہ عدالتیں پورے ملک میں چل رہی ہیں جن میں لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔ مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 17 سالوں میں تین ہزار سے زیادہ مقدموں کے فیصلے سنا چکے ہیں جن میں سول اور ملکیت کے تنازعات سے لے کر فیملی لا اور کم عمر کے بچوں کی جبری طور پر کی گئی شادیوں کے مقدمات شامل ہیں۔

مفتی صاحب کے مطابق وہ پاکستان کے آئین اور قانون اور شرعی قوانین دونوں کے مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیتے ہیں۔ ’اس کو میں ثالثی عدالت بھی کہ سکتا ہوں اور خود پاکستان کے قانون کو جانتے ہوئے اور بحثیت ایک پاکستانی ہونے کے میں اس کو ایک قانونی عدالت بھی کہہ سکتا ہوں۔‘

مفتی صاحب کے مطابق فیصلوں پر عملدر آمد کروانے کے لیے وہ اپنے وسیع اور با اثر نیٹ ورک کی مدد لیتے ہیں جس میں علاقوں کے یونین کونسلر اور بڑے زمیندار ان سے تعاون کرتے ہیں۔

’یہ بات تو جج صاحبان بھی مانتے ہیں کہ ہمارے ملک کا عدالتی نظام مہنگا ہے اور لوگوں کا بہت وقت ضائع ہوتا ہے۔ ہمارا نظام بالکل مفت ہے اور تین پیشیوں میں ہم مقدمے کو سمیٹ دیتے ہیں۔‘

جہاں ایک طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ثالثی عدالتوں کی پاکستان کے آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہاں وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ملک کے موجودہ عدالتی نظام میں انصاف کا حصول سست رفتار اور مہنگا ہے جو کہ شاید لوگوں کو متبادل راستے اپنانے پر مجبور کررہا ہے۔

لیکن قانونی ماہر کہتے ہیں کہ ریاست کے اختیارات انفرادی شخصیات یا اداروں میں منتقل ہونا ایک خطرناک عمل ہے۔

سپریم کورٹ کے وکیل میاں نعمان کا کہنا ہے ’اس طرح تو کوئی بھی شخص اٹھ کر اپنی عدالت بنا لے گا، اپنی پولیس بنا لے گا۔ عدالتی نظام میں اگر خامیاں ہیں تو انھیں ٹھیک کرنا بھی ریاست کا ہی کام ہے۔ اگر متوازی نظام بنا دیے گیے تو ریاست نہیں چل سکتی۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں ایبٹ آباد میں ایک جرگے کہ فیصلے کے نتیجے میں ایک نویں جماعت کی طالبہ کو غیرت کے نام پر قتل کر کے جلا دیا گیا اور ایک متوازی نظام کے تحت کیا گیا یہ اس نوعیت کا پہلا فیصلہ نہیں تھا۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے صدر دفتر میں لگا ایک بینر اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ لاہور میں ایک متوازی عدالتی نظام کام کر رہا ہے۔ اس بینر میں لکھا ہوا ہے کہ ہزاروں قتل اور سول معاملات کے فیصلے اسلامی نظام کے تحت کیے جا چکے ہیں۔ اور اس عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے برابر ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

تاہم پراپرٹی اور کنسٹرکشن کا کام کرنے والے خالد سعید کا کہنا ہے کہ جماعۃ الدعوۃ کی عدالت سے سمن جاری ہونے کے بعد انھیں اپنی زندگی کی کوئی امید نہیں۔ خالد کے مطابق ملکیت کے ایک تنازعے پر انہیں مبینہ طور پر تنظیم کی ثالثی عدالت میں پیش ہونے کا کہا گیا اور نہ حاضر ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں وصول ہوئیں۔ انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں جماعۃ الدعوۃ کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔ خوف کی وجہ سے گھر پر تالے لگے ہیں اور کاروبار بند ہے۔

ہائی کورٹ نے اس حوالے سے حکومت کو نوٹس جاری کیے ہیں جبکہ حکومتی نمائندوں کے مطابق وہ معاملے کی تحقیق کر رہے ہیں۔

لیکن خالد کہتے ہیں کہ انھیں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے خلاف فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔ ’اس ثالثی عدالت عالیہ نے میرے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ میں اور میرے بچے دھکے کھا رہے ہیں، دوست اور رشتے دار کوئی ہم سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سب ڈر چکے ہیں۔‘

سوال یہ ہے کہ جہاں عدالتی نظام کے رحم و کرم پر در بدر پھرنے والے انصاف کے متلاشی عوام متوازی نظام سے وقتی خلاصی تو حاصل کر لیتے ہیں مگر کیا ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتی ہے؟

اور کیوں اس متوازی نظام کے خلاف ریاست کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے جو اسی کے اپنے وجود پر ایک سوالیہ نشان ہے؟

اسی بارے میں