’وزیر اعظم نہیں آتے تو سینیٹ سے روز واک آؤٹ ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جنھوں نے اربوں کے اثاثوں کا خود ٹی وی پر آ کر اعتراف کیا ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مسلسل غیر حاضری کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے پیر کو کارروائی کے دوران علامتی واک آؤٹ کیا اور وزیر اعظم کے ایوان میں حاضر ہونے تک روزانہ واک کرنے کا عزم کیا۔

اس موقعے پر حزب اختلاف کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ’جب تک وزیر اعظم ایوان بالا میں نہیں آتے ہم واک آؤٹ یا علامتی واک آؤٹ کرتے رہیں گے۔‘

ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا ’وزیر اعظم اپنےاور خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کریں، بجائے اس کے وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی وضاحت دیں وہ چھپتے پھر رہے ہیں۔‘

انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان میں ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے بجٹ میں آٹھ ارب روپے مختص کرنے کے حق میں قراداد کی منظوری اور حکومتی وزرا کی غیر معمولی حاضری کے موقعے پر کہا کہ وہ وزیر اعظم کو پیغام دینا چاہتے کہ وہ وزیر اعظم ہونے کے ناطے اس ایوان کے قائد ہیں۔ اس لیے اس ایوان میں تشریف لائیں اور اپنے اثاثوں سے متعلق وضاحت پیش کریں۔‘

اس موقعے پر ان کا کہنا تھا ’بلوچستان میں سابق صوبائی سیکریٹری کو تو گرفتار کر لیا گیا جس کے پاس سے 70 کروڑ روپے ملے۔‘ انھوں نے کہا کہ جنھوں نے اربوں کے اثاثوں کا خود ٹی وی پر آ کر اعتراف کیا ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔

سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ وزیر اعظم کے معاملات شفاف نہیں ہیں لیکن ان کے لوگ انہیں غلط مشورے دے رہے ہیں۔

’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ (وزیر اعظم) خود ایوان بالا میں وضاحت کریں اور جب تک وہ نہیں آتے ہم سینیٹ سے واک آؤٹ یا علامتی واک آؤٹ کرتے رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption سینیٹ میں بلوچستان میں زرعی مقاصد کے لیے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے آئندہ بجٹ میں آٹھ ارب روپے مختص کرنے کی قرداد اکثریت رائے سے منظور کی گئی

اس سے پہلے سینیٹ میں بلوچستان میں زرعی مقاصد کے لیے ٹیوب ویل کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے آئندہ بجٹ میں آٹھ ارب روپے مختص کرنے کی سینیٹر میر کبیر خان احمد کی جانب سے پیش کی جانے والی قرداد اکثریت رائے سے منظور کی گئی۔

اس قراداد کی مخالفت میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا ’دو ہزار چودہ اور پندرہ کے بجٹ میں بلوچستان کو بیس ارب روپے دیے گئے تھے اور اس رقم کو استعمال نہیں کیا گیا۔ ایک بھی سکیم متعارف نہیں کرائی گئی اور وہ سارے پیسوں کو استعمال کرنے کی مدت ختم ہو گئی۔ اگر یہ لوگ اس وقت جاگتے یا کوششیں کرتے تو ان میں سے آدھے یا سارے پیسے فلاحی کام پر خرچ کیے جا سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہمیں ایک سو چھ ارب روپے بجلی کی مد میں بلوچستان سے لینے ہیں، اس کا بھی کوئی بندوبست کیا جائے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے جو ساٹھ فیصد پیسے سبسڈی کے دینے ہیں، ان کا کچھ کیا جائے۔ نہ تو کسان دے رہا ہے نہ ہی صوبائی حکومت اور صرف وفاقی حکومت چالیس فیصد سب سبسڈی دے رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا حکومت شمسی توانائی کے استعمال کے خلاف نہیں ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے مگر یہ قرارداد نیک نیتی پر مبنی نہیں ہے۔

اس کے بعد اس قراداد پر ووٹنگ کی گئی۔ اس قرادادا کے حق میں 37 ارکان سینیٹ نے ووٹ ڈالا جبکہ مخالفت میں 18 ووٹ پڑے۔

اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی سمگلنگ پر بھی بحث کی گئی۔ اس سلسلے میں بیشتر اراکین کا کہنا تھا کہ اس میں حکومتی اہلکار اور اس سے منسلک ایجنسیز بھی ملوث ہیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ بدترین ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں