سابق وزیر اعظم کا مغوی بیٹا تین برس بعد بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان حکام کے مطابق علی گیلانی کو طبی معائنے کے بعد پاکستان منتقل کر دیا جائے گا

افغانستان میں غیر ملکی فوجی حکام کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کو افغان اور غیر ملکی فوجیوں کی ایک مشترکہ کارروائی میں ملک کے جنوب مشرقی صوبے پکتیکا کے علاقے گیان سے بازیاب کرایا گیا ہے۔

افغانستان میں نیٹو حکام کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس مشترکہ کارروائی میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں اور افغان کمانڈوز نے حصہ لیا۔

٭ ’بھائی کی بازیابی میں سب اہم کردار فوج کا ہے‘

٭حیدر گیلانی کی بازیابی پر ملتان میں جشن

٭’علی گیلانی کی بازیابی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا‘

حکام کے مطابق علاقے سے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں خفیہ معلومات ملنے کے بعد انسداد دہشت گردی کا یہ مشن بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس فوجی کارروائی میں چار شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی بھی کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس کے علاوہ کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

افغانستان میں آپریشن فریڈم سینیٹنل کے تحت امریکی فوج انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کے درمیان تعاون دہشت گردی کے خلاف اور خطے میں امن اور استحکام کو یقنی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ابتدائی اطلاعات میں کہا جا رہا تھا کہ علی حیدر گیلانی کو غزنی سے بازیاب کرایا گیا ہے۔

قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ علی گیلانی کی بازیابی کی تصدیق افغان صدر کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر نے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز سے بات چیت میں کی۔

افغان حکام کے مطابق علی گیلانی کو طبی معائنے کے بعد پاکستان منتقل کر دیا جائے گا۔

پاکستانی ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں ملتان میں یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو علی حیدر کی رہائی پر جشن مناتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے بی بی سی پشتو کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کو بتایا ہے کہ علی حیدر گیلانی کی رہائی منگل کی صبح عمل میں آئی اور وہ القاعدہ سے منسلک گروپ کی قید میں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ علی حیدر گیلانی کی رہائی میں ’قطعی طور پر کوئی رقم ادا نہیں کی گئی وہ ایک کارروائی کے نتیجے میں بازیاب ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption علی حیدر گیلانی پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے ہیں

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا علی گیلانی نے بازیابی کے بعد کچھ بتایا کہ کس حال میں رکھا گیا تھا کے جواب میں افغان سفیر نے کہا ’نہیں ابھی ایسی حالت میں ان سے بات نہیں ہوئی تھی۔ انھیں وہاں سے نکالنا مسئلہ تھا جو بخوبی طے پایا اور انہیں کابل منتقل کر دیا گیا۔ اتنا عرصہ قید میں رہنا اور پھر ایک کارروائی کے نتیجے میں بازیاب ہونے کے فوراً بعد بات ممکن نہیں تھی پہلی ترجیح ان کا طبی معائنہ تھا۔‘

خیال رہے کہ علی حیدر گیلانی کو نو مئی سنہ 2013 کو اِنتخابی مہم کے دوران صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا۔

اپریل 2014 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو علی حیدر گیلانی کی ایک ویڈیو ملی تھی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے نہیں بلکہ ایک اور گروہ نے اغوا کیا۔

علی حیدر گیلانی کے اغوا کے بعد کئی بار میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کہ یوسف رضا گیلانی کو اُن کے بیٹے کی خیریت کے حوالے آگاہ رکھا جاتا ہے۔

گذشتہ برس مئی میں علی حیدر گیلانی کی ایک نامعلوم مقام سے اپنے والد سے آٹھ منٹ تک فون پر بات بھی کروائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ علی حیدر گیلانی رواں برس بازیاب ہونے والی دوسری اہم شخصیت ہیں۔

اس سے قبل سابق گورنر پنجاب کے بیٹے شہباز تاثیر بھی ساڑھے چار برس اغوا کاروں کی قید میں رہنے کے بعد آٹھ مارچ کو صوبہ بلوچستان کے علاقے کچلاک سے برآمد ہوئے تھے۔

اسی بارے میں