پشاور: پولیس کی جوابی کارروائی میں مسلح شخص ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک نامعلوم شخص نے ایک ہوٹل پر فائرنگ کی تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ منگل کو ڈبگری کے علاقے میں بنگش ہوٹل میں پیش آیا۔

٭ خیبر پختونخوا میں وکیلوں سمیت پانچ افراد کی ٹارگٹ کلنگ

٭ پشاور میں فائرنگ سے پولیس کا اہلکار ہلاک

سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عباس مجید مروت نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ڈبگری کے علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی تھی اور جب پولیس بنگش ہوٹل پہنچی تو مسلح شخص نے اپنے کمرے سے فائرنگ کی۔

عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جس کے بعد پولیس نے پہلے کمرے میں آنسو گیس کے گولے پھینکے اور پھر کمرے میں داخل ہو کر مسلح شحص کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مسلح شخص کے کمرے سے ایک بیگ ملا ہے جسے وہ تحقیقات کے لیے ساتھ لے گئے ہیں۔

مسلح شخص کا نام الحیا خان ہے اور ان کا تعلق شمالی وزیرستان ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔

مسلح شخص گذشتہ روز ہی اس ہوٹل میں قیام کے لیے پہنچا تھا اور وہ کمرا نمبر 204 میں مقیم تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہوا کہ اس نے فائرنگ کیوں کی اور یہ کہ کیا وہ نشے میں تھا۔

ڈبگری کے علاقے میں ڈاکٹروں کے نجی کلینک اور بڑے بڑے میڈیکل سینٹر واقع ہیں اور وہاں پشاور کے علاوہ دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔

اسی علاقے میں اب متعدد ہوٹل قائم ہیں جہاں بیشتر مریض اور ان کے ساتھ آنے والے افراد قیام کرتے ہیں۔

ادھر دیر میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے ملاکنڈ ریجن نے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ دو مختلف واقعات میں ملوث تھے۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تینوں افراد کے نام گل زادہ، عمر حیات اور احسان اللہ ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تینوں افراد سنہ 2009 سے 2011 تک دیگر شدت پسندوں کے ہمراہ چترال میں سکیورٹی فورسز اور دیر میں ایک مسجد پر حملے میں ملوث تھے۔

اسی بارے میں