جلسے میں بدتمیزی، ملزمان کی تصاویر جاری کر دی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Nasir Khan Mohmand
Image caption یکم مئی کو مال روڈ لاہور پر پنجاب اسمبلی کے سامنے منعقدہ جلسہ میں خواتین کے لیے الگ انکلوژر بنایا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے یکم مئی کو تحریک انصاف کے جلسہ میں خواتینکے ساتپ بدتمیزی کرنے والے پانچ نوجوانوں کی تصویریں جاری کی ہیں۔

پولیس کی جانب سے ان افراد کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر خان کے مطابق ملزموں کی تصوریریں ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کے دفتر سے جاری کی گئی ہیں، یہ تصویریں ایک موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو سے حاصل کی گئی ہیں تاہم تین ملزموں کے چہرے بالکل واضح اور دو دیگر کی شکلیں قابل شناخت ہیں۔

لاہور پولیس کے ترجمان نایاب حیدر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کی بہت کوشش کی لیکن کامیابی نہ مل سکی جس کے بعد عوام کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ملزموں کو جلد از جلد گرفتار کیا جاسکے۔

یکم مئی کو مال روڈ لاہور پر پنجاب اسمبلی کے سامنے منعقدہ جلسہ میں خواتین کے لیے الگ انکلوژر بنایا گیا تھا۔ انکلوژر کو دھاتی چادروں اور خاردار تاروں سے محفوظ بنایا گیا تھا جبکہ داخلے کے لیے ایک گیٹ مخصوص قرار دیا گیا تھا۔

انکلوژر تک پہنچنے کے لیے شاہراہ فاطمہ جناح کا راستہ بھی مخصوص کیا گیا تھاجبکہ پولیس کے ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کو سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر جلسے کے اختتام پر کچھ نوجوان خواتین انکلوژر میں گھس گئے اور وہاں موجود خواتین کو ہراساں کیا۔

واقعہ کے خلاف پولیس نے تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کررکھا ہے۔

لاہور سے پہلے 24 اپریل کو تحریک انصاف کے یوم تاسیس کے موقع پر ایف نائن پارک میں منعقدہ جلسے میں بھی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ہوئے تھے۔

اسی بارے میں