12 مئی، کراچی کی سیاست کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 12 مئی 2007 کو متحرک گروپوں میں تصادم میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے تھے

کمال سواتی کو آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ اس پر گولی چلانے والے کون تھے اور انھوں نے ایسا کیوں کیا؟

کراچی کے علاقے لانڈھی، مظفر آباد کالونی کے رہائشی کمال بھی ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو 12 مئی 2007 کو اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا استقبال کرنے کے لیے کراچی ایئرپورٹ جانا چاہتے تھے۔

40 سالہ کمال سواتی کا کہنا ہے کہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے، وہ محلے کے دیگر لوگوں کے ساتھ ایئرپورٹ جارہے تھے کہ کالا بورڈ پر جلوس پر فائرنگ کی گئی، جس میں ان سمیت تین افراد زخمی جبکہ ایک ہلاک ہوگیا۔

’ہم نے مسجد میں پناہ لی جہاں 100 سے 150 لوگ چھپے ہوئے تھے، وہاں کسی نے مجھے پہچان لیا اور میرے کزن کو ٹیلیفون کیا جو دو پولیس موبائلوں کے ساتھ آرہا تھا کہ فائرنگ ہوئی اور موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے لیکن اس کے باوجود انھوں نے پہنچ کر ہمیں ہسپتال منتقل کیا۔‘

پانچ بچوں کا باپ کمال سواتی ریڑھ میں گولی لگنے سے معذور ہوگئے جبکہ اس واقعے سے قبل وہ سبزی کی ریڑھی لگایا کرتے تھے۔ اب اہل محلہ ان کی مدد کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 12 مئی کو افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائی کورٹ بار کے 50 سالہ تقریب سے خطاب کرنا تھا

سنہ 2007 میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا سامنا تھا۔ 12 مئی کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقعے پر ان کی حمایت اور مخالفت میں ریلیاں نکالی گئی تھیں، اس موقع پر متحرک گروپوں میں تصادم ہوا جس میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

حقوقِ انسانی کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف نہیں چاہتے تھے کہ چیف جسٹس پورے ملک کا سفر کرکے اپنی مقبولیت ثابت کریں۔

’اس صورتحال کو لسانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ چیف جسٹس کے خلاف اقدام کو مضبوط کیا جاسکے۔ افسوس یہ ہے کہ اس روز 40 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں لیکن ابھی تک لوگوں کو انصاف نہیں ملا ہے۔‘

12 مئی کو افتخار محمد چودھری نے سندھ ہائی کورٹ بار کے 50 سالہ تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ اس روز ایم کیو ایم کے کارکنوں کے دھرنوں کی وجہ سے کچھ جج صاحبان عدالتوں میں بھی داخل نہیں ہوسکے تھے۔

کراچی بار کے سابق صدر محمودالحسن کا کہنا ہے کہ ’وکلا تو اس وقت جدوجہد میں مصروف تھے یہ سوال عدلیہ اور حکومت سے کرنا چاہیے کہ انھوں نے کیا کیا۔ یہ تو حکومت کا کام تھا کہ معلوم کرے کہ یہ کیوں ہوا اور کس نے کیا۔

’اب سمجھوتا کیا گیا تھا یا نہیں لیکن حکومت اور عدلیہ کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ حالانکہ جب مشرف یہاں آئے تو ان کے خلاف ریفرنس دائر ہونا چاہیے تھا۔‘

سندھ ہائی کورٹ میں انسانی حقوق کے کارکن اقبال کاظمی کی درخواست ابھی تک التویٰ کا شکار ہے۔

اس درخواست میں 2012 کو جنرل پرویز مشرف کو بھی فریق بنایا گیا تھا اور عدالت نے ان کی حاضری کے لیے اخبارات میں اشتہار بھی شائع کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اقبال کاظمی کا کہنا ہے کہ ان کا مؤقف یہ ہے کہ جو بھی اس واقعے کے مرکزی کردار ہیں ان پر ذمہ داری عائد کی جائے۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ 12 مئی کراچی کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ بنا۔ سنہ 2007 سے لے کر سنہ 2013 تک تشدد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا، جس میں سب سے زیادہ لسانی بنیاد پر پرتشدد واقعات ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں لسانیت بڑھی ہوئی اور مزید مضبوط نظر آرہی ہے

قائد اعظم یونیورسٹی کے استاد فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ شہر میں جو لسانی تفریق تھی اس نے دوبارہ جنم لیا اور بعد کے برسوں میں وہ مزید گہری ہوئی جس کا کراچی کی سیاست، معشیت اور سماج پر کافی گہرا اثر ہوا اور نتیجے میں کراچی کی سیاست خراب سے خراب تر ہوتی گئی۔

’اگر کوئی جماعت یا گروہ خود کو دوسروں پر مسلط کرنا چاہے گا تو اس کا نتیجہ ہمیشہ تشدد کی صورت میں ہی نکلے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی میں لسانی گروہوں میں جو طاقت کا توازن ہے وہ کافی مضبوط ہے۔‘

سنہ 1985 میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی بس کے حادثے میں ہلاکت کے بعد شہر میں مہاجر اور پشتون لسانی فسادات شروع ہوگئے تھے، صحافی ضیا الرحمان کا کہنا ہے کہ بارہ مئی 2007 دوسرا موقعہ تھا جب شہر میں لسانی فسادات ابھر کر آئے تھے اور نتیجے میں شہر کی دو بڑی آبادیوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی۔

’پرتشدد واقعات میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور یہ سلسلہ 2013 تک جاری رہا بالاخر وفاقی حکومت کو کراچی میں آپریشن کرنا پڑ گیا، جس سے ان لسانی تنظیموں کے عسکری دھڑے کمزور ہوئے ہیں لیکن لسانی جذبات جوں کے توں موجود ہیں۔‘

فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں لسانیت بڑھی ہوئی اور مزید مضبوط نظر آرہی ہے، اس میں مہاجر نعرہ اور ایک صوبے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن ساتھ میں مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی ہے، جو ہر لسانی ایکائی سے اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں