اپوزیشن کے سات سوالوں کے جواب میں حکومتی سوال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’وزیر اعظم سنہ 1985سے لیکر آج تک اپنے اور اپنے بچوں کے نام جائیداد کی تفصیلات سے آگاہ کریں‘

پاکستان کی پارلیمان میں متحدہ اپوزیشن نے لندن میں جائیداد، ٹیکسوں کی ادائیگیوں اور وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے اثاثوں سے متعلق سات سوالات نواز شریف کے سامنے رکھے ہیں اور ان سے قومی اسمبلی میں آ کر جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

٭ ’وزیراعظم سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کی توقع نہیں

٭ دی گریٹ بل فائٹر نواز شریف

ان سوالات کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے پوچھے گئے سوالوں کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے انھیں حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن نے پاناما لیکس سے متعلق مشترکہ اپوزیشن کی طرف سے سات سوال وزیر اعظم کے سامنے رکھیں ہیں اور کہا ہے کہ اگر ان سوالات کا جواب نہ دیا گیا تو حزب مخالف کے پاس اور بھی کئی راستے ہیں۔

بدھ کے روز حزب مخالف کے دیگر رہنماوں کے ساتھ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے جو سات سوالات تیار کیے گئے ہیں اُن میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم سنہ 1985سے لیکر آج تک اپنے اور اپنے بچوں کے نام جائیداد کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔

اس کے علاوہ وزیراعظم لندن میں جو جائیداد خریدی گئی ہے اس کی تفصیلات اور اس پر ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات کے بارے میں ایوان کو آگاہ کریں۔

ان سات سوالوں میں یہ بھی کہا گیا کہ انڈسٹریل یونٹ، اتفاق اور چوہدری شوگر ملز میں اُن کے اور ان کے بچوں کے شیئر کتنے ہیں اور انھوں نے اس کا کتنا ٹیکس ادا کیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ جائیداد کی خریدوفروخت کے دوران میاں نواز شریف کی فیملی نے کتنے فوائد حاصل کیے۔

اپوزیشن نے وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اُن کے بچوں کے نام جو آف شور کمپنیاں ہیں اُن کے اکاؤنٹس اور کمپنیوں کی تعداد کے بارے میں بھی ایوان کو بتایا جائے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ان سوالوں کے جواب دیں لیکن متحدہ اپوزیشن پاناما لیکس سے متعلق عدالتی کمیشن کے قیام سے پیچھپے نہیں ہٹے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ 10 مئی کو حکومتی وزراء نے اپوزیشن سے رابطے کیے تھے اور کہا یہ جارہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پاناما لیکس میں ٹی او آرز طے کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کے بعد حزب مخالف کی جماعتیں بھی اپنی ٹیم تشکیل دیں گی۔ اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس سے متعلق جب تک متفقہ ٹی او آرز نہیں بنائے جاتے اس وقت تک عدالتی کمیشن اپنی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے مطابق وزیر اعظم 13 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

حزب مخالف کے سوالوں پر حکومت کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے حزب مخالف کے سامنے بھی سات سوال رکھ دیے

حکومت نے حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے پوچھے گئے سوالوں کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے انھیں حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

نجکاری کے وفاقی وزیر محمد زبیر، پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی اور اراکین قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں خود ابہام کا شکار ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کس سے کروانی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں کبھی عدالتی کمیشن سے اس معاملے کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتی ہے اور کبھی سات سوالوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔

حکومت نے حزب مخالف کے سامنے بھی سات سوال رکھ دیے جس میں ان جماعتوں کے قائدین سے پوچھا گیا ہے کہ کیا وزیراعظم کا نام پاناما لیکس میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ حزب مخالف کی طرف سے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے جو ٹی او آرز بنائے گئے ہیں اُن میں بدعنوانی، کمیشن اور قرضے معاف کروانے والوں کے نام کیوں نکالے گئے۔

عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتوں نے صرف 1985 سے اثاثوں کی چھان بین کی بات کی کیونکہ اُنھیں معلوم ہے کہ ان سے پہلے ادوار کی بات کی گئی تو اس میں ان جماعتوں کے قائدین کے نام بھی آئیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اثاثوں کی چھان بین اس وقت کی گئی جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا لیکن اس دور میں بھی میاں نواز شریف کے خلاف کوئی بدعنوانی یا ٹیکس چوری ثابت نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں