’ٹی او آر‘ کس بلا کا انگریزی نام ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بات ٹی او آرز نامی کسی شے میں پھنسی ہوئی ہے۔ یہ کس بلا کا انگریزی نام ہے پاکستان کے عام شہری کو کیا معلوم

پاکستان میں بعض باتیں پہلے دن سے ہی واضح اور عیاں ہیں۔ جیسے کہ عمران خان کا الزامات کی سیاست سے باز نہ آنا، نواز شریف کا پارلیمان یا اپنی ہی کابینہ کوگھاس نہ ڈالنا، الطاف حسین کا واپس کراچی نہ آنا، شیخ رشید کا حکومت کے خاتمے سے متعلق پیش گوئی نہ کرنا، ٹاک شوز کا پاناما کا پاجامہ نہ بنانا اور اس بحث کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات نہ کرنا۔

چوہدری نثار کا چھٹی والے دن یعنی محض اتوار کے کسی اور دن میڈیا پر نہ آنا اور صدر ممنون حسین کو تقریبا صفر میڈیا کوریج ملنا۔ فہرست کافی طویل ہے لیکن اس میں تازہ اضافہ پاناما پیپرز کی تحقیقات کا کسی ٹھوس نتیجے پر ابھی تک نہ پہنچنا اور اس کے نتیجے میں کسی کو سزا نہ ہونا ہے۔

* احتساب کا آغاز وزیر اعظم سے ہوگا: عمران خان

جس مہارت سے حکمران اور حزب اختلاف معاملہ لے دے کر رہے ہیں معلوم نہیں ہو رہا کہ یہ پِنگ پونگ کھیل رہے ہیں، نورا کشتی میں اڑے ہیں یا پانچ روزہ ٹیسٹ میچ ڈرا کرانے میں مصروف ہیں۔

کھیل جو بھی ہو یہ کھلاڑی اتنے ماہر ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ نتیجہ پہلے طے کر کے کھیل شروع کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ لگتا نہیں کہ بات کہیں بہت دور تک جائے گی۔

پاناما کی دوسری قسط سیاستدانوں کے لیے کھیل کے میدان کو مزید وسیع کرنے کا ایک موقع ثابت ہوا ہے۔ پاناما کے حمام میں سو، دو سو اور ’مبینہ‘ ننگے سامنے آ گئے ہیں۔ پہلے آٹھ دس کا کچھ نہیں بن پا رہا تھا اب دو، اڑھائی سو کا کیا ہوگا، کب ہوگا اور کیسے ہوگا؟

کوئی بھی بدعنوانی یا ٹیکس چوری روکنے کے طریقوں یا اس کے تدارک کے لیے نئی قانون سازی پر بات نہیں کر رہے ہیں۔ کوئی نہیں کہہ رہا کہ جن جن امراء کی بیرون ملک کمپنیاں اور اثاثے ثابت ہوئے ہیں ان کو وہ ان اربوں، کھربوں روپے کو واپس لانے کے لیے بھی پابند کریں گے یا نہیں۔

ایک ترقی پذیر ملک کے شہری کس طرح اپنے پیسے تو ملک سے باہر لیکن دنیا بھر سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی استدعا کرتے پھرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کھیل جو بھی ہو یہ کھلاڑی اتنے ماہر ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ نتیجہ پہلے طے کر کے کھیل شروع کرتے ہیں

بات ٹی او آرز نامی کسی شے میں پھنسی ہوئی ہے۔ یہ کس بلا کا انگریزی نام ہے پاکستان کے عام شہری کو کیا معلوم۔ ہمارے امر کی بحث بھی نرالی ہوتی ہے۔

عام انسان کی سطح تک آنا انھیں ہرگز پسند نہیں۔ اسے آسان زبان میں بیرون ملک کمپنیوں کی تحقیقات کا طریقہ یا ضابطہِ کار بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن کیوں جناب ایسا کیوں کہیں؟ آخر پڑھے لکھے ہونے کا شاید ثبوت بھی تو دینا ہے۔ لیکن جس طرح ٹی اور آرز پر بحث ہو رہی یہ ٹی سے ٹرخاو اور آر سے رولا زیادہ لگنے لگا ہے۔

حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے 2014 میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے آزاد اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے مجوزہ تجاویز تین ماہ میں طے کرنی تھی،آج اس کو دو سال ہوگئے ہیں۔

ایف بی آر تنخوادار شخص کا خون نچوڑنے میں تو ماہر ہے لیکن ملک سے پیسہ کیسے اڑ اڑ کر باہر جا رہا اس پر نظر رکھنے سے قاصر ہیں۔ کیا وہاں اصلاحات اور مزید سخت قوانین کی ضرورت نہیں؟ تو یہ کون کرے گا؟ ہماری اسمبلیاں یا انٹرنیشنل کولیشن آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹ ہمیں یہ کر کے دیں گے۔ یہ اسمبلیاں ہیں کس کام کی؟

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے باضابطہ طور پر تو نہیں لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم سے ون ٹو ون ملاقات میں پاناما کو مُکانے کا حکم دیا ہے۔ دیکھیں ٹی او آرز کا نیا ملاوٹی مربہ کب طے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں