صفورا کے حملہ آوروں اور صبین محمود کے قاتلوں کو سزائے موت

Image caption صفورا چورنگی کے قریب اسماعیلی برادری کی بس میں فائرنگ سے 45 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شدت پسندی کے تین واقعات میں ملوث پانچ مجرموں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

یہ مجرمان کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے علاوہ سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اور بوہری برادری کی مسجد کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھے۔

٭ کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملہ، 45 ہلاک

٭ ’اسماعیلیوں کی بس اور صبین محمود پر حملے کے منصوبہ ساز گرفتار‘

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق جن پانچ مجرموں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں طاہر حسین منہاس، اسد الرحمٰن، سعد عزیز، حافظ ناصر اور محمد اظہر عشرت شامل ہیں۔

یہ تینوں مقدمات حکومت سندھ کی کی طرف سے فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے تھے اور جرم ثابت ہونے پر اُن مجرمان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

سزائے موت پانے والے مجرم طاہر حسین کے خلاف نو جبکہ اسد الرحمٰن کے خلاف پانچ اور حافظ ناصر کے خلاف چار مقدمات درج ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے ان مجرموں کا تعلق کالعدم تنظیم القاعدہ سے ہے اور وہ اس تنظیم کے ایجنڈے کو آگے لے جانے کے لیے بہت متحرک تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption معروف سماجی کارکن صبین محمود کو ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے متعدد مجرموں نے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جس کی بنا پر عدالت عظمیٰ نے اُن کی پھانسی پر عملدرآمد روک رکھا ہے۔

یاد رہے کہ 20 مارچ 2015 کو آرام باغ کے علاقے میں بوہری برادری کی صالح مسجد کے قریب بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے، اسماعیلی بس پر حملے کے ملزمان نے بعد میں اس دھماکے میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

24 اپریل کو موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے معروف سماجی کارکن اور سیکنڈ فلور کی ڈائریکٹر صبین محمود کو ڈیفنس کے علاقے میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا جبکہ اُن کی والدہ شدید زخمی ہوئیں۔ سبین بلوچستان سے لاپتہ افراد کے بارے میں ایک مباحثے کے بعد گھر جارہی تھیں کہ یہ حملہ ہوا۔ چند ماہ بعد صبین کے ڈرائیور کو بھی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔

13 مئی کو صفورا چورنگی کے قریب شدت پسندوں نے اسماعیلی برادری کی بس میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔جائے وقوع سے پولیس کو ’دولت اسلامیہ‘ کے پمفلٹ ملے تھے۔

اسی بارے میں