سندھ میں دس ہزار گھوسٹ مدارس کی نشاندہی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محکمہ مذہبی امور نے بتایا کہ صوبے میں 8855 مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1178 مدارس کی رجسٹریشن ہونا باقی ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ سندھ میں قومی ایکشن پلان کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی وزرات مذہبی امور کی جانب سے دس ہزار گھوسٹ مدارس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

محکمہ مذہبی امور نے شرکا کو بتایا کہ صوبے میں 8855 مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ 1178 مدارس کی رجسٹریشن ہونا باقی ہے، جیو ٹیگنگ کے لیے فزیکل تصدیق کے ذریعے 10,000 سے زائد گھوسٹ مدارس کی نشاندہی ہوئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، صوبائی وزرا، کور کمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل نوید مختیار، قائم مقام چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن ، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر اور آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق اپیکس کمیٹی نے کراچی میں بحالی امن کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے سندھ پولیس کو مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ سنہ 2013 میں ہر ماہ 80 تا 100 ٹارگٹ کلنگز کے واقعات رونما ہوتے تھے مگر اب کبھی کبھار کہیں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے اسی طرح بھتہ خوری کے کیسز میں 85 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے ۔

Image caption ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے اجلاس کو بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

کمیٹی نے کراچی کی صورتحال پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے کا بھی فیصلہ کیا جس کے لئے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں مزید آٹھ ہزار اہلکاروں کی بھرتی کا اعلان کیا جبکہ کور کمانڈر جنرل نوید مختیار نے ان اہلکاروں کو فوج سے تربیت کی یقین دہانی کرائی۔

ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اجلاس کو بتایا کہ رینجرز نے نیشنل ایکشن پلان سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس کے ذریعے لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن کا مکمل ڈیٹا تیار کیا گیا ہے۔اس ڈیٹا میں تمام مدارس، این جی اوز ، چرچ اور امام بارگاہوں کے علاوہ نامی گرامی ملزموں، سنگین جرائم میں ملوث مجرمان اور دیگر کا ڈیٹا موجود ہے، جس کا نادرا کے ذریعے باآسانی سراغ لگایا جاسکتا ہے۔

جنرل بلال اکبر نے بتایا کہ وہ کراچی سمیت باقی ڈویژن کا بھی اس طرح کا سوفٹ ویئر تیار کر رہے ہیں، سندھ پولیس بھی اس سے استفادہ حاصل کرسکے گی۔

وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی 10 کا قیام حتمی مراحل میں ہے ، ان میں سے چھ عدالتیں کراچی سینٹرل جیل میں قائم کی جائیں گی، جن کے لئے عمارتیں اگلے ماہ تک مکمل ہو جائیں گی اور یکم جولائی سے یہ عدالتیں کام شروع کردیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایپکس کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لیے 60 لاکھ روپے اور متاثرہ خاندان کے افراد کے لیے دو ملازمتوں کی فراہمی کی بھی منظوری دی

وزیر اعلیٰ نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججوں اور 200 پراسیکیوٹرز کی جلد تعیناتی کی بھی یقین دھانی کرائی ۔ انھوں نے کمیٹی کے اصرار پر صوبائی وزیر قانون کو ہدایت کی کہ وہ پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کے کام کو تیز کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کم از کم 6 ماہ کے لئے بھرتیاں کریں بعد میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے حتمی بھرتیاں کی جائیں گی۔

ایپکس کمیٹی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے لیے 60 لاکھ روپے اور متاثرہ خاندان کے افراد کے لیے دو ملازمتوں کی فراہمی کی بھی منظوری دی، اسی طرح پولیس اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے بینوویلینٹ ایند ویلفئیر بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دی۔

اسی بارے میں