پشاور: مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچی اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پرسرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گيا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جہاں ایک تازہ واقعے میں ایک پولیس اہلکار کو دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب پشاور کے علاقے یکہ توت میں آفرید آباد کے مقام پر پیش آیا۔

یکہ توت پولیس سٹیشن کے انچارج سبز علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریفک وارڈن آفتاب خان گھر سے نکل کر ڈیوٹی پر جا رہے تھے کہ رحمان بابا مقبرے کے قریب مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی جس سے وہ موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی اور آس پاس کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گيا ہے۔

Image caption پشاور شہر میں گذشتہ کچھ عرصے سے دن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پھر اضافہ ہوتا جا رہا ہے

پشاور شہر میں گذشتہ کچھ عرصے سے دن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پھر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شہر میں متعدد ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جس میں مصروف اور گنجان آباد والے علاقوں میں مسلح افراد دن دہاڑے واردات کر کے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

بیشتر واقعات میں پولیس اہلکار یا اہل تشیع فرقے سے تعلق رکھنے والے نشانہ بنائے گئے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ چند روز میں مردان اور ڈیرہ اسمعیل خان کے اضلاع میں بھی ہدف بناکر قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہیں جس میں پولیس اہلکاروں اور وکلا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں تقریباً دو سال پہلے شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ملک بھر میں عمومی طور پر سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوئی ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بیشتر واقعات میں پولیس اہلکار، حکومت کے حامی قبائلی مشیران، سرکاری افسران اور اہل تشیع فرقے کے افراد نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں