پاڑہ چنار میں جھڑپوں کے بعد غیر اعلانیہ کرفیو

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کواٹر پاڑہ چنار میں تحریک الحسینی کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد جمعرات کے روز غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔

پاڑہ چنار میں گذشتہ روز تحریک الحسینی کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ جھڑپ کچھ علما کو پاڑہ چنار میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر شروع ہوئی تھی۔ تحریک الحسینی نے اس واقعے کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو شہر میں حالات انتہائی کشیدہ رہے اور صبح کے وقت بازار اور کاروباری مراکز جزوی طور پر بند تھے جس کے بعد انتظامیہ نے تمام کاروباری مراکز بند کرا دیے۔

پاڑہ چنار میں آج تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ انتطامیہ نے شہر میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کافی کم رہی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے دو درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

گذشتہ روز ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین آج ان کے آبائی قبرستان میں کر دی گئی۔

تحریک الحسینی کے رہنماؤں کا کہنا ہے اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا ان کا حق ہے اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنا ظلم ہے۔

حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب تحریک الحسینی کے جلسے میں شرکت کے لیے کچھ علما پاڑہ چنار آ رہے تھے اور انھیں انتظامیہ نے شہر سے باہر چیک پوسٹ پر روک کر واپس بھیج دیا۔

تحریک کے کارکنوں نے اس پر دھرنا دیا جسے منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے جس کے بعد مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ انتطامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں مظاہرین کی فائرنگ سے ہوئیں۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق انھیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ علما پاڑہ چنار میں اشتعال انگیز تقاریر کر سکتے ہیں اس لیے علاقے میں امن کے قیام کے لیے ان علما کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں