افغانستان میں امن: ’کوشش ہے پانچواں اجلاس اسی ماہ ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان کو مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور کوشش ہے کہ چار ملکی گروپ کا پانچواں اجلاس اسی ماہ منعقد کیا جائے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ تاہم پانچویں اجلاس کے حوالے سے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

٭افغان مصالحتی عمل: طالبان کا وفد قطر سے پاکستان پہنچ گیا

٭ افغان طالبان نے وفد پاکستان بھجوانے کی تصدیق کر دی

٭ ’طالبان کو آمادہ کرنے کی ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں‘

وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران جب پوچھا گیا کہ چار ممالک کے آخری اجلاس میں طے پایا تھا کہ طالبان سے پہلے براہ راست بات چیت ہوگی پھر پانچواں اجلاس ہوگا تو ترجمان کا کہنا تھا ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا کہ پہلے کیا ہوگا۔

محمد نفیس ذکریا کے مطابق ’اس کی توقع تھی۔ یہ کسی قسم کا کوئی حکم یا معاہدہ نہیں تھا کہ پہلے کیا ہوگا۔ یہ ایک مشکل ٹاسک ہے اور ہمیں مشترکہ ذمہ داری کے اصول کو سمجھنا ہوگا۔ یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ طالبان کو مذاکرات کی جو دعوت دی گئی ہے تو شاید وہ آ جائیں کیونکہ سب کی سوچ یہ تھی کہ میز پر بیٹھ کر وہ (طالبان) زیادہ حاصل کرسکتے ہیں بجائے اس کے جو وہ دیگر ذرائع استعمال میں لا رہے ہیں۔‘

افغان سرحد کی تیسرے روز بندش کے بارے میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو غیر قانونی نقل و حرکت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ’اس کے تدارک کے لیے پاکستان نے چند اقدامات اٹھائے جس پر دونوں میں اختلاف ہے۔ اگرچہ اس میں دونوں کا فائدہ ہے۔‘

محمد نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے فوجی اہلکار اس مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہیں۔

بنگلہ دیش کے چارج ڈی افیئر کو وزارت خارجہ طلب کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس کا مقصد ڈھاکہ کو جواب دینا نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی نے بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی پھانسی کے خلاف قرار داد منظور کی ہے۔ ’ان رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں