افغانستان پر چار ملکی گروپ ناکام ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ w

افغانستان میں قیام امن کے لیے گذشتہ برس دسمبر میں قائم کیا گیا چار ملکی (کواڈریلیٹرل) گروپ اب تک اپنے ہدف نمبر ایک یعنی طالبان کو مذاکرات کی میز پر دوبارہ لانے میں ناکام رہا ہے۔ آخری اجلاس کو تین ماہ ہونے کو آئے لیکن بات نہیں بن پا رہی ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پانچویں اجلاس کے حوالے سے ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

٭افغان مصالحتی عمل: طالبان کا وفد قطر سے پاکستان پہنچ گیا

٭ افغان طالبان نے وفد پاکستان بھجوانے کی تصدیق کر دی

٭ ’طالبان کو آمادہ کرنے کی ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں‘

اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ بھی ابہام کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

ایک ہی روز وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سینٹ کو آگاہ کرتے ہیں کہ اس گروپ کا آئندہ اجلاس اٹھارہ مئی کو ہوگا تو وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کہتے ہیں کہ کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی تاہم اجلاس اسی ماہ طلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ پر مشتمل اس چار ملکی گروپ کے یا تو ہر ہفتے باقاعدگی کے ساتھ کابل اور اسلام آباد میں اجلاس ہو رہے تھے، روڈ میپ اور گراؤنڈ رولز طے کیے جا رہے تھے یا پھر اب تک کوئی اجلاس نہیں ہوسکا ہے۔

کابل میں 23 فروری کو آخری اجلاس میں اعلان ہوا کہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے فوراً بعد اگلا اجلاس منعقد ہوگا لیکن طالبان کے انکار کے بعد فی الحال نہ تو براہ راست مذاکرات کے اور نہ ہی چار ممالک کے دوبارہ مل بیٹھنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔

مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اعتراف کرتے ہیں کہ افغان حکومت اور امریکی میڈیا نے کیو سی جی کے عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

ان کا اصرار تھا کہ مصالحتی عمل کو بھرپور موقع اور مزید وقت دینا چاہیے اور’مذاکرات کے لیے آمادہ نہ ہونے والوں کے خلاف کارروائی مذاکرات کی بھرپور کوشش کی ناکامی کے بعد ہی کی جانی چاہیے۔‘

افغانستان اور امریکی حکام اس گروپ میں شامل ہونے کے بعد سے کافی بےصبری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مزید انتظار کریں اور وہ مصر ہیں کہ مصالحتی عمل میں شامل نہ ہونے کی صورت میں پاکستان ان گروپوں کے خلاف کارروائی کا پابند ہے۔

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے گذشتہ دنوں پارلیمان میں مذاکرات سے جڑی توقعات ختم کرنے اور جنگ کے اعلان نے بھی شاید اس عمل کو متاثر کیا ہے۔ وہ پاکستان سے بھی طالبان خصوصاً حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری اہم پیش رفت حقانی نیٹ ورک کا زیادہ عسکری طور پر فعال ہونا بتایا جاتا ہے۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور کے نائب سراج الدین حقانی اب زیادہ فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ افغان اور امریکی حکام کو یقین ہے کہ 19 اپریل کو کابل میں ہونے والا حملہ حقانی نیٹ ورک کی جانب سے ہی تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان اور امریکی حکام کو یقین ہے کہ 19 اپریل کو کابل میں ہونے والا حملہ حقانی نیٹ ورک کی جانب سے ہی تھا

یہ بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مذاکرات کے امکانات کو مزید معدم کر رہا ہے۔ لیکن سرتاج عزیز نے حقانی نیٹ ورک کو امریکہ کی سب سے بڑی تشویش قرار دیتے ہوئے کارروائی کو مسترد کر دیا ہے۔ وہ امریکہ سے حقانی نیٹ ورک کی مدد کے ثبوت مانگ رہے ہیں۔

سابق سفارت کار ایاز وزیر کہتے ہیں کہ ’کابل میں افغان صدر کا پارلیمان سے خطاب، طالبان کو پھانسیاں دینے کا آغاز اور پاکستان سے تکرار کہ وہ اپنی ذمہ داری سنبھالے تو یہ (چار ملکی) گروپ سب ختم ہے۔ لیکن جنگ میں ایسی باتیں ہوتی ہیں۔‘

اس وقت یقیناً افغان حکومت اور طالبان دونوں جنگ کی زبان بول رہے ہیں۔ طالبان قیدیوں کی پھانسیوں کے بعد طالبان نے انتقام کی دھمکی دی ہے۔

ادھر قطر سے افغان طالبان کا ایک وفد پاکستان آیا بھی لیکن کس سے ملا کس سے نہیں ماسوائے پاکستانی حکام کے کسی کو معلوم نہیں۔

اسلام آباد آج بھی ان کی آمد سے لاعلمی کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم کہتا ہے کہ طالبان کو براہ راست مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے یوں مصالحت کے عمل کا دوبارہ آغاز بظاہر ایک مرتبہ پھر پاکستان سے جڑا ہوا ہے۔

اسی بارے میں