پولیس اہلکار کو بیوی کی ناک کاٹنے پر پانچ سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption عدالتی فیصلے سے نئی زندگی ملی ہے: متاثرہ لڑکی

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی ایک عدالت نے اپنی بیوی کی ناک کاٹنے والے پولیس اہلکار صاحبزادہ کو پانچ سال اور نوماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے ملزم پر 19 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے پر متاثرہ لڑکی کا خاندان اسے حق کی فتح قرار دے رہا ہے۔

٭ جرگے کے حکم پر طالبہ کو قتل کیا گیا تھا

٭ ’جب آگ لگائی تو شاید وہ زندہ تھی‘

متاثرہ لڑکی شاہدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد وہ زندگی سے مایوس ہوگئی تھیں لیکن عدالتی فیصلے سے انھیں نئی زندگی ملی ہے۔ شاہدہ کا کہنا ہے کہ رشتہ داروں سمیت علاقے کی خواتین انھیں مبارکباد دینے کے لیے آ رہی ہیں۔

مقدمے کے وکیل سہیل سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ 20 ماہ قبل تحصیل کبل کے علاقے منجہ میں ایک پولیس اہلکار صاحبزادہ نے غیرت کے نام پر بیوی کی ناک کاٹ دی تھی۔

تحصیل کبل کے ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے فیصلے میں تاخیر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے واردات کے بعد نہ صرف ثبوت غائب کیے بلکہ گواہوں کو بھی ڈراتا دھمکاتا تھا جس کی وجہ سے کوئی گواہی دینے کے لیے بھی عدالت میں پیش نہیں ہو رہا تھا۔

سوات میں کم عمری میں لڑکیوں کی شادی کے خلاف کام کرنے والی حدیقہ بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ کم عمری کی شادی ایک اذیت ناک حادثے سے کم نہیں ہوتی۔

انھوں نے عدالت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب کوئی بھی عورتوں پر تشدد اور ان کے اعضا کاٹنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔

متاثرہ لڑکی شاہدہ کو فری لیگل ایڈ فراہم کرنے والی تنظیم ’دی اویکننگ‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عرفان حسین بابک نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں گھریلو تشدد کے کیس بہت زیادہ ہیں اور ان کے پاس آنے والے 90 فیصد کیس ان خواتین کے ہوتے ہیں جو مالی طور پر کمزور ہوتی ہیں اور عدالتی اخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔

اسی بارے میں