جنرل راحیل کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

فائل فوٹو

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعہ کو چار روز سے بند طورخم پر پاک افغان سرحد کو کھولنے کا حکم دیا جس کے بعد شام کو طورخم سرحد دوبارہ کھول دی گئی۔

سرحد کھولنے کا فیصلہ انھوں نے پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال سے ملاقات کے بعد کیا۔

طورخم سرحد پر گذشتہ تین روز میں دونوں ممالک کے درمیان چار اجلاس منعقد ہوئے تھے لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔

طورخم سے مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں فوج کی جانب سے احکامات موصول ہوئے تھے کہ سرحد کھول دی جائے جس کے بعد انھوں نے سرحد کھول دی ہے۔

طور خم سرحد کھلنے کے بعد بڑی تعداد میں گاڑیاں افغانستان کی جانب روانہ ہو گئیں جبکہ ادھر افغانستان سے گاڑیاں پاکستان داخل ہوئیں۔

یہ سرحد چار روز تک بند رہی اور ان دنوں میں دونوں جانب تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ بھی کر دیا گیا تھا جس سے سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

یہ سرحد منگل کے روز دوپہر کے وقت اس وقت بند کر دی گئی تھی جب افغان بارڈر پولیس کے اہلکاروں نے پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان سے غیر قانونی طور پر خفیہ راستوں سے پاکستان داخل ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام شروع کیا گیا تھا۔

سرحد کی بندش سے جہاں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے وہاں ایک سو سے زیادہ ایسے ٹرک بھی راستے میں روک دیے گئے تھے جن میں مختلف قسم کا سامان افغانستان لے جایا جا رہا تھا۔ ان میں تعمیراتی سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا بھی شامل تھیں۔ اس سرحد کی بندش سے دونوں ممالک میں تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

لنڈی کوتل سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ گذشتہ روز سے کھانے پینے کی اشیا سے لدے ٹرک واپس پشاور کی جانب روانہ ہو گئے تھے جبکہ دیگر سامان سے لدے ٹرک سڑک کنارے کھڑے تھے جو اب سرحد کھلنے کے بعد افغانستان کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

اسی طرح تین روز تک سڑک کے کنارے انتظار کرتے ہوئے افغان شہریوں نے کہیں مسجدوں میں پناہ لی تھی یا مقامی لوگوں نے انھیں اپنے اپنے مکانوں میں پناہ دی تھی۔

عام حالات میں طورخم کے مقام پر 15 سے 20 ہزار روزانہ افراد سرحد عبور کرتے ہیں۔ اس میں بڑی تعداد افغانستان سے پاکستان کی جانب آتی ہے جن میں زیادہ تعداد مریضوں کی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں