’عمران خان کو آف شور کمپنی کا جواب پارلیمان میں دینا ہوگا‘

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اپنی آف شور کمپنی کے حوالے سے تمام سوالات کے جوابات پارلیمینٹ میں دینا ہوں گے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ سنہ 1983 میں عمران خان نے جو آف شور کمپنی بنائی تھی وہ کیا کاروبار کرتی تھی، اس کی سالانہ آمدن کتنی تھی، کون سی پراڈکٹ مارکیٹ میں فروخت کرتی تھی، دنیا میں کہاں کہاں اس کمپنی کے ذریعے جائیدادیں خریدی گئیں، اور اس کمپنی کو کیوں چھپا کر رکھا جیسے سوالات کے جوابات عمران خان کو دینا ہوں گے۔

٭’ آف شور کمپنی بنائی، اس میں کوئی غیرقانونی چیز نہیں ہے‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’عمران خان عوام کو بتائیں کے جب وہ یہ سب کام کر رہے تھے انھوں نے پاکستان میں کتنا ٹیکس جمع کروایا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز عمران خان نے کہا تھا کہ انھوں نے سنہ 1983 میں ایک آف شور کمپنی بنائی تھی۔

جمعے کو لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں عمران کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ آف شور کمپنی لندن میں فلیٹ خریدنے کے سلسلے میں اکاؤنٹنٹ کے کہنے پر بنائی تھی۔

پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس کے سب سے زیادہ اراکین آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن کی تعداد چھ ہے۔ جن میں عمران خان، جہانگیر ترین، علیم خان، صوبہ خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر شہرام تراکئی، پی ٹی آئی کے سینیٹر اور عمران خان کی بہن شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان میں کسی کو آف شور کمپنیوں کا بابا آدم کہا جائے تو وہ عمران خان ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن کی آف شور کمپنی ہے لیکن اس کے برعکس مسلم لیگ نون کے کسی وزیر اعظم، رکن پارلیمان یا وزیر کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔

عمران خان کی بہن کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی بہن نے تو سچ بول دیا ہے کہ انھوں نے ٹیکس بچانے کے لیے بیرون ملک جائیداد خریدی۔ اب عمران خان یہ بتائیں کہ کیا یہ جائیداد ان کے علم میں تھی یا نہیں؟ اور اگر تھی تو انھوں نے کیوں چھپایا۔‘

دوسری طرف سنیچر کو ہی پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے پرویز رشید کی نیوز کانفرنس کے فوراً بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے تو سچ بول دیا ہے یہ بتائیں کہ وزیر اعظم کب سچ بولیں گیں۔‘

نعیم الحق نے کہا کہ ’میں پرویز رشید کو چیلنج کرتا ہوں کہ انھوں نے جن چھ ارکان کے نام لیے ہیں ان کے خلاف 48 گھنٹوں میں تفتیش کریں اور قانون کے مطابق سزا دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے ذاتی طور پر امید نہیں ہے کہ وزیراعظم سوالات کے جوابات دیں گے۔‘

اسی بارے میں