اسلام آباد میں وزیرِاعظم ہاؤس کا اہلکار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے ملزم کو زخمی حالت میں لڑکی کے گھر والوں کے چنگل سے چھڑا کر ہسپتال منتقل کیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے وزیرِ اعظم ہاؤس کے ایک ملازم کے خلاف گھر میں بغیر اجازت داخل ہونے اور ہوائی فائرنگ کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

یہ واقعہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بھارہ کہو میں پیش آیا اور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم وزیر اعظم کا پروٹوکول افسر ہے تاہم اب وزیرِ اعظم ہاؤس کے حکام نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک کلرک ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم نسیم خان نے چند روز قبل فیس بک پر بھارہ کہو کے علاقے حذیفہ ٹاؤن کی رہائشی ایک لڑکی سے فیس بک پر پہلے دوستی کی خواہش ظاہر کی اور پھر اظہارِ محبت کیا تھا۔

متعلقہ علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر عارف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی نے جب اس واقعے کی بارے میں اپنے گھر والوں کو بتایا تو انھوں نے نسیم خان کوگھر بلانے کا فیصلہ کیا۔

پولیس افسر کے مطابق ملزم نسیم خان سرکاری گاڑی پر لڑکی کے گھر آیا تو وہاں موجود لڑکی کے بھائیوں نے اس کی درگت بنا ڈالی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنی جان بچانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی بھی کی لیکن اس کے باوجود لڑکی کے گھر والوں نے ملزم کی پٹائی کا سلسلہ بند نہیں کیا۔

واقعے کی اطلاع جب متعلقہ تھانے میں دی گئی تو پولیس کی نفری نے ملزم کو زخمی حالت میں لڑکی کے گھر والوں کے چنگل سے چھڑا کر ہسپتال منتقل کر دیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

ایس ڈی پی او عارف شاہ کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف گھر میں بغیر اجازت داخل ہونے اور ہوائی فائرنگ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ سائبر کرائم سے متعلق معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کر دیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم مقامی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اس کے کمرے کے باہر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

وزیرِ اعظم پاکستان کے پرنسپل سیکریٹری نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

وزیرِ اعظم ہاؤس کے افسر تعلقاتِ عامہ محمد صالح نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملزم وزیرِ اعظم کا پروٹوکول افسر نہیں بلکہ نچلے رینک کا کلرک ہے جو وزیرِ اعظم ہاؤس میں آج کل ’اٹیچمنٹ‘ پر تعینات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملزم کا انفرادی اقدام ہے اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے پولیس کی کارروائی میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔