’پہلے اپنی صفائی دوں گا پھر وزیرِاعظم سے سوال کروں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے وزیرِ اعظم نواز شریف سے جو سوالات کیے ہیں انھی کے جوابات وہ پہلے اپنی ذات کے حوالے سے دینا چاہتے ہیں۔

پیر کی صبح برطانیہ سے واپسی کے بعد بنی گالہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ بڑی بےصبری سے وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں تقریر کا انتظار کر رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ وزیرِاعظم ان کی تقریر سننے کے لیے پارلیمنٹ میں رکیں گے یا نہیں۔

* ’بچاؤ کا راستہ اپوزیشن اور حکومت کے اتفاق میں‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اپنی آف شور کمپنی کے بارے میں وضاحتی بیان دینا چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتیں یہ اُمید کر رہی ہیں کہ میاں نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاس میں سات سوالوں کے جواب دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حزب مخالف کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ اعظم محض تقریر نہ کریں بلکہ ان کے سوالوں کا جواب دیں

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک لیڈر پر جب کوئی بات آتی ہے تو وہ الٹا الزامات نہیں لگاتا بلکہ صفائی پیش کرتا ہے کیونکہ وہ عوام کو جواب دہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو مخاطب کر کے کہا ’میں آج صفائی پیش کروں گا۔ جو جواب میں دوں گا وہ بھی وہی جواب دیں۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اپنی تقریر کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کے قائدین کی تقاریر سننی پڑیں گی اور پاناما لیکس کے بارے میں حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے متفقہ طور پر پوچھے گیے سات سوالوں کا جواب دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا حکومتی خط کا جواب حزب مخالف کی جماعتوں کے موقف کی تائید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان پاکستان پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگاتے رہے ہیں

دوسری جانب حزب مخالف کی جماعتوں کا اجلاس قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے جس میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے حوالے سے چیف جسٹس کا حکومت کو لکھے جانے والے خط اور اس معاملے کے لیے ضوابط کار طے کرنے سے متعلق غور کیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا بھی حزب مخالف کی جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کا امکان ہے۔

موجودہ پارلیمنٹ میں یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ قائد حزب اختلاف کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں عمران خان شریک ہوں گے۔

دوسری جانب آج کے قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے حکومتی اہلکاروں کا اہم اجلاس وزیر اعظم کی سربراہی میں وزیر اعظم ہاؤس میں جاری ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے قریبی رفقا کے علاوہ حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین شریک ہیں۔

اسی بارے میں