’سات سوالوں کو 70 سوال بنا دیا‘: اپوزیشن کا واک آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خورشید شاہ نے کہا کہ ’قوم سوالات کے جواب مانگتی ہے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی کے پاناما لیکس سے متعلق اہم اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد حزبِ اختلاف نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے نواز شریف کی تقریر کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ ’ہم آئے تھے سات سوالوں کے جواب مانگنے۔ جو بڑے آسان اور معصومانہ تھے اور ان کی وضاحت بھی ایسے ہی چاہتے تھے۔‘

* کرپشن کی تحقیقات، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے دی جانے والی وضاحت نے ان سات سوالات کے جواب میں 70 سوالات کو جنم دیا ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سوالات کا جواب نہ ملنے پر ایوان کا وقت ضائع نہں کیا جا سکتا۔ ’قوم سوالات کے جواب مانگتی ہے۔‘

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ وہ لندن کے فلیٹس کے جواب مانگ رہے تھے اور وزیر اعظم کی تقریر کے بعد دبئی اور جدہ سے متعلق بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

خورشید شاہ کی تقریر کے وقت اپوزیشن ارکان کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی اور ان کی مختصر تقریر کے اختتام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اراکین سمیت اپوزیشن ارکان نے واک آؤٹ کردیا۔

اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کرپشن کے تدارک کے لیے حزب اختلاف کی مشاورت سے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کردی ہے۔

نواز شریف نے کہا یہ کمیٹی باہمی مشاورت کے بعد تحقیقات کے لیے ’ٹی او آرز‘ یا ضابط کار بنائیں اور جس فورم پر چاہیں تحقیقات کرالی جائیں۔

واک آؤٹ کے بعد عمران خان نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پر کتنی تکالیف گزری وہ جانتے ہیں اور انھیں اتنی کہانی سنانے کی ضرورت نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف نے ایوان میں سچ نہیں بولا اور نہ ہی صفائی پیش کی ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز میں نواز شریف کا نام آیا ہے اس لیے وہی جوابدہ ہیں۔

اسی بارے میں