لکی مروت میں چار افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر پختونخوا کے لکی مروت میں اس سے قبل بھی تشدد کے واقعات پیش آ چکے ہیں

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے تین افراد مفرور تھے۔

یہ لاشیں تحصیل نورنگ کے ایک دیہات سے ملی ہیں۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس مراد خان نے بی بی سی کوبتایا کہ کل رات پولیس کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ راستے میں لاشیں پڑی ہیں جس پر پولیس ٹیم موقع پر پہنچی۔

ان کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت یہ لاشیں ملیں جنھیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشیں ہسپتال لائی گئیں جہاں ان کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان میں تین افراد مفرور تھے۔

پولیس کے مطابق ان میں فرمان اللہ، قتل اور اقدام قتل سمیت نو مقدمات میں اور نسیم خان بارہ مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ ان میں ڈاکٹر ولد شہباز دو مقدمات میں اشتہاری قرار دیئے گئے تھے جبکہ امی اللہ نامی شخص کی لاش بھی ان کے ہمراہ پڑی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ لاشوں کے قریب دو موٹر سائیکل بھی کھڑے ملے ہیں۔

ڈی ایس پی مراد خان نے بتایا کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ انھیں کس نے قتل کیا ہے۔ اس لیے نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

لکی مروت میں اس سے پہلے بھی تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔گذشتہ مہینے تحصیل نورنگ میں نا معلوم افراد نے دو پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

رواں سال مارچ کے مہینے میں نورنگ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کفایت حسین اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کی کنپٹی پر گولی کا نشان تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ خود کشی تھی یا انھیں قتل کیا گیا تھا۔

اسی طرح گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں لکی مروت کے ایک حجرے سے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کے والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔

اسی بارے میں