پاناما لیکس: اپوزیشن پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت پر آمادہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خورشید شاہ نے کہا کہ ’قوم سوالات کے جواب مانگتی ہے‘

پاکستان میں اپوزیشن نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی تجویز پر تشکیل دی جانے والی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے منگل کو پارلیمان میں حزب مخالف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ اپوزیشن تحقیقات کے معاملے پر حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہے تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

* کرپشن کی تحقیقات، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم نے کرپشن کے تدارک کے لیے جس پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی بات کی ہے، حزبِ مخالف اس کے لیے اپنے نمائندے مقرر کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

نواز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں سپیکر کو پاناما پیپرز کے سلسلے میں حزب اختلاف کی مشاورت سے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ یہ کمیٹی باہمی مشاورت کے بعد تحقیقات کے لیے ’ٹی او آرز‘ یا ضوابط کار بنائے اور جس فورم پر چاہیں تحقیقات کروا لی جائیں۔

خورشید شاہ نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کے کارروائی کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب پارلیمنٹ کے اندر ہی احتجاج کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’میاں نواز شریف بڑی دیر کے بعد ایوان میں آئے ہیں جبکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا توگھر ہی پارلیمنٹ ہے اور وہ اپنے گھر سے کیسے دور رہ سکتے ہیں؟‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے جو سوالات پوچھے گئے ہیں انھیں اُن کا جواب دینا ہی ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption وزیر اعظم سے وضاحت طب کی گئی ہے کہ سنہ 1988 سے لیکر سنہ 1991تک شریف فیملی نے ساڑھے چودہ کرروڑ روپے کی رقم ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی تھی

سات سوال اب 70

پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیز اور اُن کے اثاثہ جات کے بارے میں پوچھے گئے سات سوالات کو پیر کو میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد اب 70 سوالات میں تبدیل کردیا ہے۔

یہ سوالات حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کیے گئے ہیں جن کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ہے۔

حزب مخالف کی طرف سے وزیر اعظم سے آٹھ مختلف معلامات میں 70 سوالات کیے گئے ہیں اور وزیر اعظم سے کہا گیا ہے کہ وہ ان سوالات کا تفصیلی جواب دیں۔

جن آٹھ معاملات میں وزیر اعظم سے 70 سوالات کیے گئے ہیں اُن میں یہ پوچھا گیا ہے کہ شریف فیملی نے لندن میں پارک لین میں جائیداد خریدنے کے لیے رقم بھجوانے کے لیے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال کیا اور اس ضمن میں حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والے پشاور کے دو افراد نے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ شریف فیملی لندن میں جائیداد خریدنے کے لیے پاکستانی کرنسی میں رقم بھجواتی تھی جنہیں بعد میں غیر ملکی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ لندن میں خریدی گئی جائیداد جن میں پارک لین میں واقع لگثری اپارٹمنٹ کن میں 16، 16 اے، 17 اور 17اے شامل ہیں کیا وہ بھی ان آف شور کمپنیز کی ملکیت ہے

اس کے علاوہ ان معاملات میں یہ بھی وزیر اعظم سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ سنہ 1988 سے لے کر سنہ 1991تک شریف فیملی نے ساڑھے چودہ کرروڑ روپے کی رقم ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی تھی۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے تیار کردہ سوالوں میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اُن چھ آف شور کمپنیز کے بارے میں بتائیں جو شریف فیملی کی ملکیت ہیں۔

وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ لندن میں خریدی گئی جائیداد جن میں پارک لین میں واقع لگژری اپارٹمنٹ کن میں 16، 16 اے، 17 اور 17اے شامل ہیں کیا وہ بھی ان آف شور کمپنیز کی ملکیت ہے۔

حزب مخالف کی جماعتوں سے طرف سے وزیر اعظم سے اُن بےنامی جائیداد کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا ہے جو اُن کے خاندان نے بیرون ملک بنائی ہیں جن کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔

ان معاملات میں وزیر اعظم سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ میاں نواز شریف نے سنہ 1990 میں بطور وزیر اعظم فیصل بینک سے 3 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا اور قرضے کے حصول کے لیے میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

اسی بارے میں