ایسا کیسے چلے گا ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم یا ان کے وزرا کوئی بچے تو نہیں کہ انھیں یہی نہ معلوم ہو کہ پوچھا کیا جا رہا ہے اور اصل میں بتانا کیا ہے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پانامہ لیکس کی چھان پھٹک کے لیے حزبِ اختلاف اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل جس مشترکہ کمیٹی کی تشکیل کی تجویز گذشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش کی، یہی کام پچھلے ایک ماہ کے دوران دو مرتبہ قوم سے یکطرفہ خطاب، کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں یک رخی چھان بین کمیٹی کی تشکیل کے اعلان، اس کمیٹی کی سربراہی کسی بھی جج کی جانب سے قبول نہ کرنے کے اعتراف، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دو ہزار برس پر پھیلے تحقیقاتی دائرہ کار کا خط بھیجنے اور تین ہفتے بعد چیف جسٹس کی جانب سے جواب آنے سےبہت پہلے بھی ہو سکتا تھا۔

مگر یہ چار قیمتی ہفتے حزبِ اختلاف کے ساتھ الزامیہ بلے بازی، گلیاری بولنگ اور خوشامدی فیلڈنگ کی نذر ہوگئے اور اب بھی حکومت کی حکمتِ عملی سے (اگر یہ حکمتِ عملی ہے) یہی لگتا ہے کہ مکمل حقائق کو ایک ساتھ میز پر رکھ کے حزبِ اختلاف کو چیلنج کرنے کی بجائے پہلے ہر مطالبے پر اکڑ دکھاؤ، پھر وزرا کی آرٹلری کے ذریعے زبانی گولہ باری کرواؤ اور پھر تھوڑی سی لچک دکھا دو۔

توقع شاید یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ ویسے ہی شروع ہونے والا ہے، اس کے بعد مون سون کی بارشوں اور سیلاب کا سیزن شروع ہو جائے گا اور پھر ستمبر میں بحث کا رخ نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کی جانب مڑ جائے گا۔

٭ کرپشن کی تحقیقات: پارلیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان

٭ ’سات سوالوں کو 70 سوال بنا دیا‘: اپوزیشن کا واک آؤٹ

٭ ’پہلے اپنی صفائی دوں گا پھر وزیرِاعظم سے سوال کروں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بنیادی سوال کا سیدھا جواب دینے کی بجائے شریف خاندان کے صنعتی مسائل و فضائل اور اس کے تاریخی پس منظر پر مبنی تقریر کی فوٹو کاپی تین مرتبہ سنائی جا چکی ہے

اگر اس حکمتِ عملی کا مقصد حزبِ اختلاف کو تھکا تھکا کے اکتانا ہے تو حزبِ اختلاف کا تو کام ہی یہ ہے کہ رونق میلہ لگا رہے۔ اس چکر میں زیادہ امکان یہی رہتا ہے کہ کہیں تھکانے والا خود ہی نہ تھک جائے۔

وزیرِ اعظم یا ان کے وزرا کوئی بچے تو نہیں کہ انھیں یہی نہ معلوم ہو کہ پوچھا کیا جا رہا ہے اور اصل میں بتانا کیا ہے لیکن بعض اوقات ایسے معصوم سوالات کا جواب دینا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ اگر لندن کی املاک متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں شریف خاندان کی سرمایہ کاری کے پیسے سے خریدی گئیں تو مروجہ بینکنگ چینلز کے ذریعے اس پیسے کی قانونی ٹرانزیکشن اور املاک کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک مالکانہ حقوق کی منتقلی کی پیپر ڈیل کہیں تو ہوگی۔ اس پیسے سے براہِ راست املاک کیوں نہیں خریدی جا سکیں اور بیچ میں آف شور کمپنیاں کیسے آ گئیں؟ اگر یہ کمپنیاں ٹیکس بچانے کے لیے دو بیٹوں اور بیٹی کے نام پر بنائی گئیں تو اس کا دھڑلے سے اعتراف کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟

لیکن بنیادی سوال کا سیدھا جواب دینے کی بجائے شریف خاندان کے صنعتی مسائل و فضائل اور اس کے تاریخی پس منظر پر مبنی تقریر کی فوٹو کاپی تین مرتبہ سنائی جا چکی ہے۔

میاں صاحب کا سوال گندم جواب چنا پر مبنی دفاعی انداز دیکھ کے پنڈی کے وہ راجہ صاحب یاد آ رہے ہیں جو نہایت خوش خلق اور محلے کی محبوب شخصیت تھے۔ اچانک سے پڑوسیوں کو احساس ہونے لگا کہ راجہ جی اپنے ہم عمروں میں وقت گذارنے کی بجائے لونڈوں لپاڑوں میں زیادہ اٹھنے بیٹھنے لگے ہیں۔ چے مے گوئیاں شروع ہوئیں تو راجہ جی کےکانوں تک بھی پہنچیں۔ راجہ جی پہلے تو برداشت کرتے رہے ۔پھر ایک دن زچ ہو کر کہا ’مڑے آلے دوالے جاتکاں تے بہوں نظر اے پر اے کوئی نئیں ویخنا کہ کس کس نمازاں وی میں ای پڑھنا واں۔‘

(میرے اردگرد جمع لڑکے سب کو نظر آتے ہیں مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ خشوع و خضوع سے نمازیں بھی میں ہی پڑھتا ہوں۔)

اسی بارے میں