کیا مسئلہ صرف جنوبی پنجاب میں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پنجاب میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے حوالے سے جب بھی بات ہوتی ہے، سوئی آ کر جنوبی پنچاب پر ٹِک جاتی ہے حالانکہ جن عوامل اور شواہد کی بنیاد پر جنوبی پنچاب کو شدت پسندی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے، ویسے ہی عوامل باقی حصوں میں بھی کارفرما ہیں۔

عمومی خیال یہ ہے کہ زیادہ تر شدت پسند تنظیمیں، جنوبی پنجاب میں ارتکاز پذیر ہیں لیکن حقائق یہ ہیں کہ ان تنظیموں کے نیٹ ورک پورے صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔

* جنوبی پنجاب میں شدت پسندی: کلک ایبل نقشہ

اگر صرف ان تنظیموں کے مرکزی دفاتر پر ہی نظر ڈالی جائے تو وہ بھی پورے صوبے میں منقسم ہیں۔ کالعدم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے مرکزی دفاتر وسطی پنجاب، سابقہ حرکت المجاہدین کے دفاتر اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان واقع ہیں

کالعدم سپاہ صحابہ کا مرکزی نیٹ ورک لاہور، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور کراچی میں منقسم ہے البتہ کالعدم جیش محمدنے بہاولپور کو مرکز بنایا ہے۔

اگر مذہبی جماعتوں کے پھیلاؤ کو دیکھا جائے تو ان کا ارتکاز بھی وسطی پنجاب میں ہے۔

لاہور کو مذہبی جماعتوں کا دارالخلافہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا جہاں چھوٹی بڑی 180 مذہبی جماعتیں کام کر رہی ہیں اور ان میں بیشتر کے مرکزی دفاتر اسی شہرمیں موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کالعدم جیش محمد نے بہاولپور کو اپنا مرکز بنایا ہے

مدارس اور مساجد کے پھیلاؤ کو بھی مذہبی شدت پسندی کے پھیلاؤ کے عامل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر اس کو پیمانہ مان لیا جائے تو شدت پسندی کو کسی ایک علاقے سے مخصوص نہیں کیا جا سکتا۔

مدارس کی افزائش اور پھیلاؤ کے دو اسلوب ہیں۔ یہ بڑے شہری اور صنعتی مراکز کے گرد تیزی سے پھیلتے ہیں یا بڑی شاہراہوں کے ساتھ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ مذہبی اداروں کو چلانے کے لیے جو وسائل درکار ہیں وہ یہیں سے میسر آ سکتے ہیں۔

تمام مسالک کے بڑے مدارس کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور،گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان میں زیادہ ارتکاز پذیر ہیں۔ چھوٹے شہروں میں اگر بڑے مدارس ہیں بھی تو یا تو ان کی نوعیت تاریخی ہے یا وہاں طلبا کی تعداد کافی کم ہے۔

لیکن یہ بات بہت اہم ہے کہ بڑے شہروں اور صنعتی مراکز کے قریب واقع مدارس میں مقامی طلبا اور اساتذہ کی تعداد کم ہے۔

اگر صرف لاہور اور فیصل آباد کے مدارس کو دیکھا جائے تو وہاں بالترتیب قبائلی علاقوں، کشمیر اور جنوبی پنجاب کے طلبا کی زیادہ نظر آئے گی۔ اسں پس منظر میں یہ بات قیاس کی جا سکتی ہے کہ پنجاب کے جنوبی علاقے شدت پسندوں کی بھرتی کے مراکز ہیں۔

اسّی اور نوے کی دہائی تک یہ بات کسی حد تک درست کہی جا سکتی تھی اور اس کی وجہ حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد اسلامی، سپاہ صحابہ جیسی تنظیموں کا ان علاقوں میں خاص سرگرم ہونا تھا لیکن اسی عرصے کے دوران جماعت اسلامی سے وابستہ یا اس کی فکر سے ہم آہنگ تنظیموں کے لیے وسطی اور شمالی پنجاب بھرتی کے حوالے سے زیادہ زرخیز علاقے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مدارس کی افزائش اور پھیلاؤ کے دو اسلوب ہیں۔ یہ بڑے شہری اور صنعتی مراکز کے گرد تیزی سے پھیلتے ہیں یا بڑی شاہراہوں کے ساتھ۔

تو پھر شدت پسندی کی بحث میں جنوبی پنجاب کیوں اہم ہے؟

اس کی ایک اور وجہ غربت اور پسماندگی بتائی جاتی ہے لیکن ایسے ہی عوامل نہ صرف اندرون سندھ اور بلوچستان میں زیادہ فعال ہیں بلکہ وسطی اور شمالی پنجاب کے کئی دیہی اضلاع ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہیں۔

رحیم یار خان اور راجن پور کے ڈیلٹائی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن سے اس رائے کو بہت تقویت ملی ہے کہ جنوبی پنجاب میں ایسے علاقےموجود ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہنچ سے دور ہیں اور وہاں جرائم پیشہ ، ملک دشمن اور دہشت گرد اپنی پناہ گاہیں بنا لیتے ہیں لیکن ایسے علاقے راوی اور چناب درمیان بھی موجود ہیں۔

پنجاب میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا چیلنج بہت اہم ہے اور اسے کسی علاقے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سمجھنے کے لیے دو پہلو اہم ہیں۔

پہلا کالعدم تنظیموں کے بارے میں عمومی تاثر سے متعلق ہے۔ یہ تنظیمیں فرقہ وارانہ اور عسکری نوعیت کی ہیں اور بیشتر ریاست کے اداروں کی آلۂ کار رہی ہیں۔

ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کی معاون ہیں لیکن یہ تنظیمیں القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی جیسے دہشت گرد گروپوں کی دو طرح سے معاون ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رحیم یار خان اور راجن پور کے ڈیلٹائی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن سے اس رائے کو بہت تقویت ملی ہے کہ جنوبی پنجاب میں ایسے علاقےموجود ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہنچ سے دور ہیں

کالعدم تنظیمیں نہ صرف دہشت گرد گروپوں کے بیانیے کو تقویت پہنچانے میں معاون ہیں بلکہ دہشت گرد ان تنظیموں سے افرادی قوت حاصل کرتے ہیں۔ نہ تو ان کی تنظیمی قیادت اور نہ ہی حکومت کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات کو ختم یا کمزور کر پائی ہے۔

دوسرے پہلو کا تعلق ریاستی حکمت عملی سے ہے اور حکومت ابھی تک گو مگو کی کفیت میں ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے دہشت گرد گروہوں کے خلاف حکمت عملی میں ہمیشہ ایک بنیادی نقص رہ جاتا ہے اور وہ دہشت گرد گروہوں کا کالعدم تنظیموں سے تعلق ہے۔

بعض صورتوں میں ان کی دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں اس لیے موثر نہیں ہو سکتیں کہ وہ اپنے آپریشنز کا دائرہ کالعدم تنظیموں تک وسیع نہیں کر سکتے۔

حکومت ان تنظیموں کی سٹریٹ پاور اور سیاسی اثر و رسوخ سے زیادہ ان کے پرتشدد ردعمل سے خوف زدہ رہتی ہے اور صورتحال اس وقت زیادہ گھمبیر ہو جاتی ہے جب یہ کالعدم تنظیمیں آج بھی خود کو ریاست کے لیے کارآمد اثاثوں کے طور پر پیش کرتی ہیں اور ریاست اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔

کلک ایبل
  • جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

    ×
  • ڈیرہ غازی خان

    ×

    ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا سرحدی ضلع ہے جو شدت پسندی کی زد پر رہا ہے۔

    یہاں دہشتگردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں کھوسہ خاندان سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ کی رہائش گاہ اور ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے ڈیرے کے باہر دھماکے بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ یہاں سنہ 2011 میں سخی سرور کے سالانہ عرس کے موقع پر بھی خودکش حملہ ہو چکا ہے جس میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • مظفر گڑھ

    ×

    مظفر گڑھ بھی جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جہاں فرقہ وارانہ شدت پسندی میں ملوث تنظیموں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروپ بھی متحرک رہے ہیں۔

    کالعدم لشکر جھنگوی کے امیر ملک اسحاق اپنے بیٹے اور تنظیم کے دیگر رہنماؤں سمیت مظفر گڑھ میں ہی سنہ 2015 میں ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

  • ملتان

    ×

    جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کو اولیا اور صوفیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس ضلع میں بظاہر کالعدم سپاہ صحابہ اور جماعت الدعوۃ متحرک نظر آتی ہے لیکن اس ضلع میں شدت پسندی کی لہر بھی رہی ہے۔

    یہی وہ ضلع ہے جہاں سے 2013 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی بیٹے کو انتخابی مہم کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔

    اگرچہ ان کے اغوا کار مقامی نہیں تھے تاہم تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان اغوا کاروں کے سہولت کار ضرور یہیں سے تعلق رکھتے تھے۔

    ملتان میں سنہ 2009 میں آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر دھماکہ بھی یہاں موجود شدت پسندی کی لہر کا ایک ثبوت ہے۔

  • بہاولنگر

    ×

    ضلع بہاولنگر میں کالعدم لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوۃ کا واضح اثرورسوخ ہے۔

    یہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے نائب سربراہ غلام رسول کا آبائی علاقہ بھی تھا۔

    غلام رسول سنہ 2015 میں مظفر گڑھ میں ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے اور اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے ان کے دو بیٹوں سمیت پانچ افراد کا تعلق بھی ضلع بہاولنگر سے ہی تھا۔

  • راجن پور

    ×

    جنوبی پنجاب کا پسماندہ ضلع راجن پور اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب عبدالرشید غازی کا آبائی علاقہ تھا۔

    عبدالرشید غازی سنہ 2007 میں لال مسجد میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد تشکیل پانے والی ’غازی فورس‘ میں بھی مقامی جوانوں کی قابلِ ذکر تعداد شامل ہوئی تھی۔

    یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ تصور ہوتا ہے جن کی کمیں گاہیں دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے جنگلات میں ہیں۔

    اپریل 2016 میں سکیورٹی اداروں نے یہاں سرگرم گروہوں خصوصاً غلام رسول چھوٹو کے گینگ کے خلاف ضربِ آہن کے نام سے آپریشن بھی کیا جس کے نتیجے میں چھوٹو گینگ نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

  • بہاولپور

    ×

    بہاولپور جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جہاں کالعدم تنظیم جیشِ محمد کا مرکزی دفتر قائم ہے۔

    یہ اس تنظیم کے بانی مسعود اظہر کا آبائی ضلع بھی ہے جو یہیں ایک قلعہ نما عمارت میں رہائش پذیر ہیں۔

    مسعود اظہر کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے مقدمے میں پاکستانی حکام نے حراست میں رکھا جبکہ حال ہی میں پٹھان کوٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد بھی انھیں حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔

    اس ضلع میں جیشِ محمد کے علاوہ کالعدم لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوۃ کا بھی زور رہا ہے۔

  • رحیم یار خان

    ×

    رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جسے کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    سپاہ صحابہ کے رہنما اور شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے امیر ملک اسحاق کا تعلق اسی ضلع سے تھا۔

    ملک اسحاق کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے ان کی تنظیم کا اس علاقے میں بہت اثرورسوخ تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کے مقدمے میں ضمانت اور پھر سنہ 2015 میں ہلاکت تک ملک اسحاق اپنے آبائی ضلع میں ہی رہائش پذیر رہے اور یہیں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

اسی بارے میں