ڈکیت اور جنگجو: جنوبی پنجاب میں عسکریت پسندی

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption غلام رسول چھوٹو پولیس پر اس بات پر برہم تھا کہ اسے اور اس کے گینگ کو تحریکِ طالبان کا ساتھی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے

کیا چھوٹو گینگ کی گرفتاری کے بعد جنوبی پنجاب میں جنگجوؤں کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ ہرگز نہیں، اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ میڈیا بھی مجرم اور دہشت گرد میں فرق کرنے سے قاصر رہا ہے۔

غلام رسول چھوٹو اغوا برائے تاوان کے دھندے میں ملوث ایک مجرم تھا اور اس نے لاہور میں حملے کے بعد شہرت حاصل کی جس میں 72 بےگناہ لوگ مارے گئے تھے۔

٭ کیا مسئلہ صرف جنوبی پنجاب میں ہے؟

٭ چھوٹو صرف ایک شخص کا نہیں سوچ کا نام ہے

٭ جنوبی پنجاب میں شدت پسندی: کلک ایبل نقشہ

اس لیے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک پارلیمنٹیریئن نے جب بعض جرنیلوں کو چھوٹو گینگ کی حقیقت سے آگاہ کیا تو وہ غلط نہیں تھے: ’وہ محض ایک قبائلی بلوچ اور مجرم ہے جو اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ اسے دہشت گرد قرار دیا جائے۔ اسے قتل نہ کریں۔‘

چھوٹو کے پولیس پر حملے ’گندم پر جنگ‘ کا حصہ تھے جن میں پولیس بھی یکساں موردِ الزام ٹھہرتی ہے۔

پولیس کو صوبے کے قبائلی علاقوں میں گندم کی غیرقانونی فروخت کے بارے میں علم تھا جسے باقاعدگی سے بندوبستی علاقوں میں سمگل کر کے بیچا جاتا تھا۔

چھوٹو کے پاس وہ مقامی روابط تک نہیں تھے جن کی مدد سے وہ گندم افغانستان سمگل کر سکتا۔

اس کی پولیس کے ساتھ جنگ گذشتہ چند برسوں میں شروع ہوئی جب بعض اعلیٰ افسران نے اس سے زیادہ شدومد سے رقم بٹورنا شروع کر دی، جس سے جھڑپیں شروع ہو گئیں جن میں دونوں طرف سے لوگ مارے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چھوٹو کے پولیس پر حملے ’گندم پر جنگ‘ کا حصہ تھے جن میں پولیس بھی یکساں موردِ الزام ٹھہرتی ہے

چھوٹو پولیس پر اس بات پر برہم تھا کہ اسے اور اس کے گینگ کو غیر مسلم اور تحریکِ طالبان کا ساتھی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس بات کی امید کم ہی ہے کہ اس آپریشن کا کبھی مواخذہ ہو سکے گا، یا اس بات کا احتساب ہو گا کہ پولیس نے ایک مجرم کو تو پکڑ لیا ہے لیکن اصل جنگجو اب بھی پنجاب اور ملحقہ صوبہ سندھ میں سرکاری سرپرستی میں دندناتے پھر رہے ہیں۔

وسطی پنجاب میں اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی جاتی، اور زیادہ توجہ جنوب پر مرکوز ہے۔

جنوبی پنجاب پر دیوبندی عسکریت پسندی کا غلبہ ہے۔ اس وقت وہاں جیشِ محمد سب سے نمایاں تنظیم ہے جو دوسری دیوبندی تنظیموں کی طرح سپاہِ صحابہ کی نظریاتی اور تنظیمی کوکھ سے پھوٹی ہے۔

سنہ 2000 میں جیشِ محمد کی جزوی فنڈنگ اسامہ بن لادن کیا کرتے تھے جنھوں نے کراچی میں فضل الرحمان خلیل کے زیرِ اہتمام چلنے والے حرکت المجاہدین کے مدرسوں کے حصص خرید لیے تھے۔

2000 میں اظہر مسعود کو انڈین ایئر کی پرواز 182 کے اغوا کے بعد قندہار میں مسافروں کے بدلے میں رہا کیا گیا تھا۔ اظہر اس کے بعد پاکستان میں آزادانہ گھومتے پھرتے رہے اور تقریریں کر کے لوگوں کو جہاد پر مائل کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسعود اظہر بہاولپور میں اپنی تنظیم کے مرکز میں ہی قیام پذیر ہیں

جیشِ محمد کے مددگاروں اور ارکان کی زیادہ تعداد پنجابیوں پر مشتمل تھی، خاص طور پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والوں پر، جو ماضی میں حرکت المجاہدین کا حصہ تھے۔

انٹیلیجنس ایجنسیاں روایتی طور پر ان دھڑوں کو تقسیم کر کے اور نئے دھڑے تخلیق کر کے عسکریت پسندی کی دنیا پر اپنی گرفت مضبوط رکھتی رہی ہیں۔

2000 میں حرکت المجاہدین کی گوشمالی ضروری تھی کیونکہ پشتون اکثریتی حرکت المجاہدین نے فرقہ وارانہ تشدد سے باز رہنے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم مولانا اظہر نے شیعوں کی قتل و غارت معطل کر کے کشمیر اور انڈیا پر توجہ مرکوز کرنے پر رضامندی اختیار کر لی۔

اس طرح جیش انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث تھی، جبکہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان پر مشتمل لشکرِ طیبہ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ مسعود اظہر کے ایک ساتھی نے بتایا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کشمیر میں واقع جہاد کونسل کا مشترکہ فیصلہ تھا۔

جیشِ محمد 2000 کے عشرے کے وسط میں خاصے تلاطم کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں اس کے بعض ارکان نے الگ ہو کر الفرقان نامی تنظیم بنا لی تاہم ان سب کے باوجود جیش ایک ایسی منظم تنظیم کے روپ میں ڈھل گئی جو ریاست کے ساتھ مل کر کام کرتی تھی۔

Image caption جیشِ محمد کا ’مرکزِ عثمان و علی‘ نامی ہیڈکوارٹر بہاولپور کے وسط میں واقع ہے

اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ الفرقان نے مالی معاملات کی بنا پر جیش سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور یہ کہ مسعود اظہر نے جہاد کی رقوم اپنے ذاتی استعمال کے لیے خردبرد کی تھیں۔

اصل بات یہ کہ ہے کہ اس کے بعد کے برسوں میں جیشِ محمد نے خاصا بڑا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس کا ’مرکزِ عثمان و علی‘ نامی ہیڈکوارٹر بہاولپور کے وسط میں واقع ہے۔ اس سے کچھ ہی دور لاہور کراچی ہائی وے پر 15 ایکڑ کا ایک نیا مدرسہ زیرِ تعمیر ہے جس کا خرچ جیش نہیں اٹھا رہی۔

دوسری طرف چولستان کے موج گڑھ قلعے کے علاوہ قریبی چک 48 میں بھی ایک مدرسہ قائم ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پٹھان کوٹ حملے میں حصہ لینے والوں کی تربیت چولستان میں ہوئی تھی۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مقامی باشندے بہاولپور اور چولستان کے درمیان سڑکوں پر بندوق برداروں سے بھری ڈبل کیبن گاڑیاں آتے جاتے دیکھتے ہیں۔ میڈیا چاہے جو کہے لیکن جیش کے اہلکار آپ کو بتائیں گے کہ حکومت ان کی تنظیم پر انحصار کرتی ہے۔

یہاں جیش سب سے صاف ستھری دیوبندی مسلح تنظیم کے روپ میں ابھر کر سامنے آئی ہے لیکن اسی علاقے میں سپاہِ صحابہ پاکستان اور اس کی ساتھی تنظیم لشکرِ جھنگوی بھی مصروفِ عمل ہیں۔

درحقیقت سپاہِ صحابہ دیوبندی عسکریت پسندی کی ماں کہی جا سکتی ہے۔ یہ ایرانِ انقلاب کے بعد شیعوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنے کی خاطر 1984 میں بنائی گئی تھی۔

مثلاً 1985 میں جنرل ضیا کی حکومت ملک کی شیعہ آبادی کی جانب سے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کی وجہ سے تشویش میں مبتلا تھی، جب کہ گلگت اور بلتستان کے شیعوں نے سکولوں میں اپنا نصاب پڑھانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اہل سنت والجماعت مولانا احمد لدھیانوی کی قیادت میں کام کر رہی ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے قریب ہیں

حکومت نے جھنگ کے باسی حق نواز جھنگوی کو سپاہِ صحابہ قائم کرنے کے لیے سرپرستی فراہم کی جس نے ابتدا میں تو سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رکھی، لیکن بعد میں یہ بھی عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو گئی۔

سپاہِ صحابہ اور افغان ضلعے کنڑ میں قائم کردہ اس کی ساتھی تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی افغان جہاد میں لوگوں کی بھرتی پر مامور ہو گئیں۔ چنانچہ گلبدین حکمت یار، محمد ربانی اور عبدالرؤف سیاف جیسے افغان جنگی سرداروں کے لشکروں کے بعض کمانڈروں کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔

1990 کے اوائل میں سپاہِ صحابہ کا ایک خالصتاً عسکری دھڑا وجود میں آیا جسے لشکرِ جھنگوی کا نام دیا گیا۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اب برے عسکریت پسندوں کی فہرست میں شامل ہے اور اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملک اسحاق کے مرنے سے لشکرِ جھنگوی کا خاتمہ ہوا، نہ ہی ریاض بسرا کے قتل سے سپاہِ صحابہ کا شیرازہ بکھر گیا۔ یہ دونوں تنظیمیں جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچے کے علاقے میں سرگرمِ کار ہیں۔

اس کا سیاسی دھڑا اہل سنت والجماعت کے نام سے مولانا احمد لدھیانوی کی قیادت میں کام کر رہا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے قریب ہیں۔

مولانا لدھیانوی نے سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے نیٹ ورک کو قائم رکھنے میں مدد دی ہے، جب کہ زیادہ عسکریت پسندوں نے جیشِ محمد کے جھنڈے تلے پناہ لی ہے۔

دریا کے آس پاس کا علاقہ عسکریت پسندوں کو چھپنے اور پنپنے کی اچھی جگہیں فراہم کرتا ہے اور یہاں ترقیاتی کام تو ایک طرف رہے، خود ریاست ہی غائب ہے۔

اس علاقے میں مزاروں کی موجودگی عسکریت پسندی کے خلاف کسی قسم کی ضمانت نہیں ہے، کیوں کہ وہ بنیادی طور پر وڈیروں کی سرپرستی کی علامتیں ہیں۔

لیکن چاہے ریاستی چھتری ہو یا نہ ہو، پنجاب میں عسکریت پسندی کی جڑیں گہری اور مضبوط ہیں۔