جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں جب بھی شدت پسندی کا ذکر ہوتا ہے تو پنجابی طالبان کا ذکر بھی آتا ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کسی ایک علاقے یا معاشرے کے کسی ایک طبقے تک محدود نظر نہیں آتی اور اس کی جڑیں پورے ملک میں پھیلی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود صوبے پنجاب کے جنوبی اضلاع اور خاص طور ان اضلاع کے دور دراز دیہی علاقوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں شدت پسندی کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے جنوبی علاقوں میں شدت پسندی کے حوالے سے بی بی سی اردو کا نقشہ۔ کسی بھی ضلع کے بارے میں معلومات کے لیے اس کے نام پر کلک کریں۔

کلک ایبل
  • جنوبی پنجاب میں شدت پسندی

    ×
  • ڈیرہ غازی خان

    ×

    ڈیرہ غازی خان جنوبی پنجاب کا سرحدی ضلع ہے جو شدت پسندی کی زد پر رہا ہے۔

    یہاں دہشتگردی کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں کھوسہ خاندان سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ کی رہائش گاہ اور ایم این اے سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے ڈیرے کے باہر دھماکے بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ یہاں سنہ 2011 میں سخی سرور کے سالانہ عرس کے موقع پر بھی خودکش حملہ ہو چکا ہے جس میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • مظفر گڑھ

    ×

    مظفر گڑھ بھی جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جہاں فرقہ وارانہ شدت پسندی میں ملوث تنظیموں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گروپ بھی متحرک رہے ہیں۔

    کالعدم لشکر جھنگوی کے امیر ملک اسحاق اپنے بیٹے اور تنظیم کے دیگر رہنماؤں سمیت مظفر گڑھ میں ہی سنہ 2015 میں ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔

  • ملتان

    ×

    جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کو اولیا اور صوفیا کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اس ضلع میں بظاہر کالعدم سپاہ صحابہ اور جماعت الدعوۃ متحرک نظر آتی ہے لیکن اس ضلع میں شدت پسندی کی لہر بھی رہی ہے۔

    یہی وہ ضلع ہے جہاں سے 2013 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی بیٹے کو انتخابی مہم کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔

    اگرچہ ان کے اغوا کار مقامی نہیں تھے تاہم تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان اغوا کاروں کے سہولت کار ضرور یہیں سے تعلق رکھتے تھے۔

    ملتان میں سنہ 2009 میں آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر دھماکہ بھی یہاں موجود شدت پسندی کی لہر کا ایک ثبوت ہے۔

  • بہاولنگر

    ×

    ضلع بہاولنگر میں کالعدم لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوۃ کا واضح اثرورسوخ ہے۔

    یہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے نائب سربراہ غلام رسول کا آبائی علاقہ بھی تھا۔

    غلام رسول سنہ 2015 میں مظفر گڑھ میں ہونے والے ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے اور اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے ان کے دو بیٹوں سمیت پانچ افراد کا تعلق بھی ضلع بہاولنگر سے ہی تھا۔

  • راجن پور

    ×

    جنوبی پنجاب کا پسماندہ ضلع راجن پور اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب عبدالرشید غازی کا آبائی علاقہ تھا۔

    عبدالرشید غازی سنہ 2007 میں لال مسجد میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے اور ان کی ہلاکت کے بعد تشکیل پانے والی ’غازی فورس‘ میں بھی مقامی جوانوں کی قابلِ ذکر تعداد شامل ہوئی تھی۔

    یہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ تصور ہوتا ہے جن کی کمیں گاہیں دریائے سندھ کے ساتھ کچے کے جنگلات میں ہیں۔

    اپریل 2016 میں سکیورٹی اداروں نے یہاں سرگرم گروہوں خصوصاً غلام رسول چھوٹو کے گینگ کے خلاف ضربِ آہن کے نام سے آپریشن بھی کیا جس کے نتیجے میں چھوٹو گینگ نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

  • بہاولپور

    ×

    بہاولپور جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جہاں کالعدم تنظیم جیشِ محمد کا مرکزی دفتر قائم ہے۔

    یہ اس تنظیم کے بانی مسعود اظہر کا آبائی ضلع بھی ہے جو یہیں ایک قلعہ نما عمارت میں رہائش پذیر ہیں۔

    مسعود اظہر کو سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے مقدمے میں پاکستانی حکام نے حراست میں رکھا جبکہ حال ہی میں پٹھان کوٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد بھی انھیں حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔

    اس ضلع میں جیشِ محمد کے علاوہ کالعدم لشکر جھنگوی اور جماعت الدعوۃ کا بھی زور رہا ہے۔

  • رحیم یار خان

    ×

    رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا وہ ضلع ہے جسے کالعدم تنظیموں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    سپاہ صحابہ کے رہنما اور شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے امیر ملک اسحاق کا تعلق اسی ضلع سے تھا۔

    ملک اسحاق کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے ان کی تنظیم کا اس علاقے میں بہت اثرورسوخ تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کی منصوبہ بندی کے مقدمے میں ضمانت اور پھر سنہ 2015 میں ہلاکت تک ملک اسحاق اپنے آبائی ضلع میں ہی رہائش پذیر رہے اور یہیں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔