دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فاروق لغاری 1997کے الیکشن میں ہیوی مینڈیٹ حاصل کرنے والے میاں نواز شریف سے وزارتِ عظمیٰ کا حلف لے رہے ہیں

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 18 ستمبر 1996 کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو نہ تاریخ میں پہلے کبھی پیش آیا تھا اور نہ ہی اس کے بعد ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔

یہ وہ دور ہے جب بےنظیر بھٹو کے دوسرے دورِ اقتدار کے آخری دن چل رہے تھے۔ مرتضٰی بھٹو کی ہلاکت سے وزیر اعظم ابھی سنبھل نہیں پائی تھیں کہ یہ معاملہ پارلیمان میں اٹھایا گیا۔

٭ پاناما پیپرز نواز شریف کے لیے ایک کڑا امتحان، بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

٭ میرے باپ کا پیسہ ہے

٭ ایسا کیسے چلے گا؟

فاروق احمد خان لغاری ملک کے صدر تھے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے ہی ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے تھے۔ صدر لغاری نے آئین کے آرٹیکل چھپن / دو کے تحت اس وقت کی اسمبلی کے سپیکر سید یوسف رضا گیلانی کو ایک خط ارسال کیا۔

اس سے قبل کہ سپیکر قومی اسمبلی کو یہ خط موصول ہوتا اس کی کاپیاں اپوزیشن کو مل گئیں اور ارکان تک پہنچ گئیں۔

اُس وقت کے قائد حزب اختلاف نواز شریف اور سابق صدر لغاری کے درمیان کئی خطوں کے تبادلے کے بعد فاروق لغاری نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط تحریر کیا اور پس پردہ حکومت وقت کے خلاف خطوط کے تبادلے کا اعتراف میاں نواز شریف نے ایوان میں اپنی تقاریر کے دوران بھی کیا۔

20 برس پہلے لکھے گئے اس خط کا پس پردہ مقصد کچھ اور تھا لیکن موضوع کرپشن ہی تھا۔

فاروق خان لغاری نے اپنے خط کے شروع ہی میں کہا تھا کہ ایک بدعنوان یا کرپٹ معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا کیونکہ اس میں انصاف نہیں ہوتا۔

سابق صدر نے کرپشن کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے لکھا تھا کہ کرپٹ معاشرے میں جن کو انصاف نہیں ملتا وہ مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس طرح تشدد کی نرسریاں جنم لیتی ہیں۔

کرپشن کو تشدد سے اس وقت جوڑا گیا تھا جب ابھی دہشت گردی اور انتہا پسندی نے اپنے پنجے پاکستان میں اس بری طرح نہیں گاڑے تھے جیسا کہ گذشتہ چند برس میں ہوا ہے۔

صدر نے خط میں ذکر کیا کہ قائد حزب اختلاف میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج پر مشتمل ایک بااختیار اور طاقت ور جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

صدر کے خط پر اسمبلی میں کئی روز تک بحث جاری رہی اور نواز شریف نے ایک نیا مسودۂ قانون بھی ایوان میں پیش کیا۔

اس مسودے میں تجویز کیا گیا کہ صدر، وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کو اس کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا جائے۔

قائد حزب اختلاف نے ’دودھ کا دودھ پانی کا پانی‘ کا محاورہ اپنی تقریر میں ایک سے زیادہ مرتبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اگر اس طریقے سے احتساب کمیشن کے چیئرمین کے نام پر اتفاق نہ ہو سکے تو چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں سپریم کورٹ کے چار سینیئر ترین جج شامل ہوں وہ اس کمیشن کا چیئرمن مقرر کرے۔

نواز شریف نے اس بل میں یہ بھی تجویز کیا کہ یہ کمیشن 90 دن کے اندر اندر اپنا کام مکمل کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُسی تقریر میں اُس وقت کے قائد حزب اختلاف نے حکومت وقت کو یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اپوزیشن سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائے گی اور ’دھرنا‘ دینے سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

پیپلز پارٹی اس وقت ایک علیحدہ کمیشن بنانے کے حق میں نہیں تھی لیکن حزب اختلاف کے دباؤ میں وہ اس بارے میں قانون سازی کرنے کے لیے تیار ہو گئی تھی۔

لیکن حکومت کو ایسا کام کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ اس تقریر کے چند مہینے بعد بےنظیر کی حکومت ختم ہو گئی اور ایک سال سے بھی کم عرصے میں نواز شریف نے فروری 1997 میں اقتدار سنبھال لیا۔

اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف حکومت نے احتساب ایکٹ پاس کیا لیکن اس کا سربراہ سپریم کورٹ کا جج نہیں بلکہ سیف الرحمان کو مقرر کیا گیا۔

پاکستان میں پائی جانے والی کرپشن اور خاص طور پر سرکاری سطح پر ہونے والی کرپشن کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔

پاناما پیپرز سے نہ کوئی نئی بات پتہ چلی ہے اور نہ ہی کسی خفیہ راز سے پردہ چاک ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کے وزیرِ اعظم منتخب ہو چکے ہیں

کرپشن کی بیخ کنی پر بھی قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور ایسا پاناما لیکس کے سامنے آنے کےبعد نہیں ہوا بلکہ نوے کی دہائی میں جب کئی حکومتیں کرپشن کے الزامات میں اٹھاون دو بی کی نذر ہوئیں تھیں، تب سے کرپشن کو ختم کرنے کی بحث جاری ہے۔

موجودہ وزیر اعظم خود ماضی میں سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے کی نہ صرف تجویز پیش کر چکے ہیں بلکہ اسے بل کی صورت میں ایوان میں بھی لا چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے تقریباً ایک ماہ کی الزام تراشیوں، بحث برائے بحث کے بعد بالاخر حکومت اور اپوزیش ایک 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر متفق ہوئی ہے جو مجوزہ کمیشن کے ضوابطِ کار وضع کرے گی۔

سوال یہ ہے کہ پاناما لیکس اور شریف خاندان کے افراد کے بیانات میں تضادات سامنے آنے کے بعد ملک میں کرپشن ختم کرنے کا جو تازہ شور اٹھا اور اس کے ردعمل میں نواز شریف نے جو تقاریر کیں تو انھیں اس بل کا خیال کیوں نہ آیا جو انھوں نے خود پیش کیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کی تجویز جو وہ خود دے چکے تھے ان کے ذہن میں کیوں نہ آئی؟

کیا ان تاریخی حقائق سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہیں ہو جاتا؟

اسی بارے میں