وزارتِ خارجہ کا اعلیٰ اہلکار ریمانڈ پر نیب کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نیب ترجمان کے مطابق شفقت چیمہ کے اکاؤنّٹ سے پانچ کروڑ روپے برآمد کیے گئے ہیں

پاکستان میں آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ اہلکار شفقت علی چیمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر نیب حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

احتساب کے وفاقی ادارے نیب نے منگل کو ڈائریکٹر شفقت چیمہ کو آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزامات میں گرفتار کیا تھا۔

بدھ کو حکام نے انھیں اسلام آباد میں نیب کی عدالت میں پیش کیا جس نے انھیں 12 روز کے عدالتی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

نیب کے ترجمان نوازش علی نے بی بی سی کو بتایا کہ دفتر خارجہ کی شکایت پر ڈائریکٹر شفقت علی کو ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ سری لنکا، نیپال اور بھوٹان ڈیسک کے ڈائریکٹر شفقت علی پر مبینہ طور پر آمدن کے لحاظ سے غیر متناسب اثاثوں کا الزام عائد گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’شفقت چیمہ پر انسانی سمگلنگ کی اطلاعات کی تحقیقات بھی جائیں گی‘

نیب ترجمان کے مطابق شفقت چیمہ کے اکاؤنٹ سے پانچ کروڑ روپے برآمد کیے گئے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں ان کے انسانی سمگنگ میں ملوث ہونے کی اطلاعات پر نیب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی ریمانڈ کے دوران تحقیقات کی جائیں گی۔

وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ ہرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ یورپ سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر پاکستانیوں کی واپسی کے معاہدے اور اس کے بعد ہونے والی تحقیقات میں شفقت چیمہ نظروں میں آئے۔

انھوں نے بتایا کہ انسانی سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات ان کے سنہ 2000 کے آغاز پر تین برس تک سپین میں تعیناتی کے دوران آئے اور کیونکہ شفقت علی کا تعلق بھی صوبہ پنجاب میں گجرات کے علاقے سے ہے جہاں مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کام کرتے ہیں۔

اہلکار کے مطابق شفقت چیمہ کے خلاف سری لنکا میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی ہراس کا الزام بھی تھا اور اس ضمن میں ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی تھیں اور گذشتہ کئی برسوں سے انھیں بیرون ملک پوسٹنگ نہیں دی جا رہی تھی۔